فیکٹ چیک: مغربی بنگل میں دو گروپوں کے بیچ ہوئی جھڑپ کے ویڈیو کو کیا جا رہا ہماچل میں مسلمانوں پر ظلم کے حوالے سے وائرل
وشواس نیوز نے اپنی پڑتال میں پایا کہ وائرل کیا جا رہا ویڈیو کا ہماچل پردیش سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ یہ ویڈیو مغربی بنگال کا اس وقت کا ہے جب دو گروہوں کے درمیان جھڑپ ہو گئی تھی اور پولیس نے کچھ لوگوں پر کاروائی کی تھی۔ اسی وقت کے ویڈیو کو فرضی دعوی کے ساتھ پھیلایا جا رہا ہے۔
By: Umam Noor
-
Published: Feb 7, 2025 at 06:25 PM
-
نئی دہلی (وشواس نیوز)۔ سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہو رہا ہے جس میں ایک شخص کو پولیس اہلکار گاڑی کی جانب لے جاتے ہوئے دیکھے جا سکتے ہیں۔ وہیں کچھ لوگ اس شخص ڈنڈے مارتے ہوئے بھی نظر آرہے ہیں۔ ویڈیو کو شیئر کرتے ہوئے صارفین دعوی کر رہے ہیں کہ یہ ویڈیو ہماچل پردیش کا ہے جہاں مسلم نوجوان پر یہ ظلم ہوا ہے۔
وشواس نیوز نے اپنی پڑتال میں پایا کہ وائرل کیا جا رہا ویڈیو کا ہماچل پردیش سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ یہ ویڈیو مغربی بنگال کا اس وقت کا ہے جب دو گروہوں کے درمیان جھڑپ ہو گئی تھی اور پولیس نے کچھ لوگوں پر کاروائی کی تھی۔ اسی وقت کے ویڈیو کو فرضی دعوی کے ساتھ پھیلایا جا رہا ہے۔
کیا ہے وائرل پوسٹ میں؟
فیس بک صارف نے وائرل پوسٹ کو شیئر کرتے ہوئے لکھا، ’’ہماچل میں مسلمانوں کے ساتھ ظلم کیا جا رہا ہے۔ مسلمانوں کے ساتھ ایسا کیوں کر رہے ہیں یہ لوگ کیسا قانون ہے اور کیسا انصاف ہے۔ ان پولیس والوں کے ساتھ قانونی کاروائی ضرور ہونی چاہیے۔ یہ کس طرح کا قانون ہے‘‘۔
پوسٹ کے آرکائیو ورژن کو یہاں دیکھیں۔
پڑتال
اپنی پڑتال کو شروع کرتے ہوئے سب سے پہلے ہم نے ویڈیو کے کی فریمس نکالے اور انہیں گوگل لینس کے ذریعہ سرچ کیا۔ سرچ کئے جانے پر ہمیں وائرل ویڈیو کا ہی اسکرین گریب مغربی بنگال کی نیوز ویب سائٹ آنند بازار ڈاٹ کام پر شائع ہوئی خبر میں ملا۔ 30 جنوری 2025 کی خبر میں اس ویڈیو کے حوالے سے بتایا گیا کہ یہ معاملہ مغربی بنگال کے سوری کا پیش آیا جہاں ترنمول کانگریس کے کارکنان کے ہی دو گروپوں کے درمیان لڑائی ہوگئی تھی۔ اور اس پر قابو پانے کے لئے پولس نے اپنی کاروائی کرتے ہوئے مذکورہ نوجوان کو پکڑا تھا۔
معاملہ پر مزید سرچ کئے جانے پر ہمیں ایک دیگر بنگلہ نیوز ویب سائٹ پر یہ 30 جنوری 2025 کو شائع ہوئی خبر میں ملی۔ دی گئی معلومات کے مطابق، ’پولیس نے اس نوجوان پر کاروائی اس وقت کی جب اس نے پولیس اہلکار کا کالر پکڑ لیا تھا اور اسی وجہ سے پولیس نے اس پر کاروائی کی تھی۔ خبر میں دی گئی مزید معلومات کے مطابق، مذکورہ شخص ٹی ایم سی پارٹی کا مقامی غنڈا ہے۔مکمل خبر یہاں پڑھی جا سکتی ہے۔
وائرل پوسٹ سے متعلق تصدیق کے لئے ہم نے ہمارے ساتھی دینک جاگرن میں مغربی بنگال کے ایڈیٹر بنے مشر سے رابطہ کیا اور وائرل پوسٹ ان کے ساتھ شیئر کی۔ انہوں نے ہمیں بتایا کہ یہ ویڈیو مغربی بنگال کا ہی ہے جب دو گروہوں کے درمیان جھڑپ ہو گئی تھی۔
اب باری تھی فرضی پوسٹ کو شیئر کرنے والے فیس بک پیج کی سوشل اسکیننگ کرنے کی ہم نے پایا کہ اس پیج کو دس ہزار لوگ فالوو کرتے ہیں۔
نتیجہ: وشواس نیوز نے اپنی پڑتال میں پایا کہ وائرل کیا جا رہا ویڈیو کا ہماچل پردیش سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ یہ ویڈیو مغربی بنگال کا اس وقت کا ہے جب دو گروہوں کے درمیان جھڑپ ہو گئی تھی اور پولیس نے کچھ لوگوں پر کاروائی کی تھی۔ اسی وقت کے ویڈیو کو فرضی دعوی کے ساتھ پھیلایا جا رہا ہے۔
Claim Review : یہ ویڈیو ہماچل پردیش کا ہے جہاں مسلم نوجوان پر یہ ظلم ہوا ہے۔
-
Claimed By : FB Page- Kashmir news alert22
-
Fact Check : جھوٹ
-
مکمل حقیقت جانیں... کسی معلومات یا افواہ پر شک ہو تو ہمیں بتائیں
سب کو بتائیں، سچ جاننا آپ کا حق ہے۔ اگر آپ کو ایسے کسی بھی میسج یا افواہ پر شبہ ہے جس کا اثر معاشرے، ملک یا آپ پر ہو سکتا ہے تو ہمیں بتائیں۔ آپ نیچے دئے گئے کسی بھی ذرائع ابلاغ کے ذریعہ معلومات بھیج سکتے ہیں۔