Newchecker.in is an independent fact-checking initiative of NC Media Networks Pvt. Ltd. We welcome our readers to send us claims to fact check. If you believe a story or statement deserves a fact check, or an error has been made with a published fact check
Contact Us: checkthis@newschecker.in
Fact checks doneFOLLOW US
Fact Check
عجائب نامہ
فرعون دنیا کا واحد شخص ہے جس کی مرنے کے تین ہزار سال بعد پاسپورٹ بنا۔ فرعون کا پاسپورٹ 1974 میں بنایا گیا کیوں کہ فرعون کی نعش کو محفوظ رکھنے کے لیے کچھ مرمت فرانس میں ہونی تھی اور فرانس میں بنا پاسپورٹ لاش بھی داخل نہیں ہوسکتی اس لیے فرعون کا پاسپورٹ بنایا گیا ـتھا۔
فرعون کی لاش کو جاری پاسپورٹ کی تصویر کے ساتھ ہی یہ دعویٰ پہلے بھی کافی تعداد میں شئیر کیا جا چکا ہے۔
تونسہ پولس عوام دوست کے فیس بک پوسٹ کا آرکائیو لنک۔
فرعون کے پاسپورٹ کی وائرل تصویر کے ساتھ کئے گئے دعوےکی سچائی جاننے کے لئے کچھ ٹولس کی مدد سے سب سے پہلے ہم نے گوگل سرچ کیا ۔لیکن ہمیں کوئی بھی اطمینان بخش جواب نہیں ملا۔پھر ہم نےکچھ کیورڈ سرچ کیا۔جہاں پتا چلا کہ یو نیورسٹی ٹولوس 1 کیپیٹل کے پروفیسر میتھیو ٹوزیل ڈیوینا نے اےایف پی کو بتایا کہ فرانس میں ایسا کوئی قانون نہیں ہے جس میں لاش کے لئے پاسپورٹ لازم ہو۔
پھر ہم نے پاسپورٹ کو غور سے دیکھا تو تصویر میں نظر آ رہےبارکوڈ کے نیچے ہیریٹیج ڈیلی ڈاٹ کام(Heritagedaily.com) لکھا ہوا دکھائی دیا ۔تب ہم نے مذکورہ ویب سائٹ پر فرعون کی لاش کے پاسپورٹ کے حوالے سے سرچ کیا تو ہمیں وائرل پاسپورٹ ملا۔ جس کے کیپشن میں “یہ پاسپورٹ ایک تخلیق کار کا کارنامہ ہے- تصویر صرف نمائندگی کے لئے ہے۔ دراصل اصلی پاسپورٹ عوام کے لئے دستیاب نہیں ہے” لکھا ہے۔
دی اینٹین نیوزپیپر اور دی نیو یارک ٹائمس کے مطابق 28ستمبر 1976 کو فرعون کی لاش مصر سے فرانس علاج کے لئے بھیجی گئ تھی۔لیکن دونوں رپورٹ میں پاسپورٹ کا ذکر کہیں بھی نہیں ہے۔
وہیں سرچ کے دوران ہمیں” رام سیس 2: دی گریٹ جرنی” نامی ڈاکومینٹری ملی۔ جس میں بھی فرعون کی لاش کے پاسپورٹ کا ذکر نہیں کیا گیا ہے۔ بتا دوں کہ یہ ڈاکومینٹری2011 میں شائع کی گئی تھی۔
ایلیزابیتھ ڈیوڈ، مصر کے لوور میوزیم کے افسر،نے 12 اکتوبر 2020 کو اے ایف پی کو بتایا تھا کہ غلط فہمی اس وجہ سے بھی ہو سکتی ہے کہ نیچرل ہسٹری کے نیشنل میوزیم نے 1985کو ایک رپوٹ شائع کی تھی جس میں ماہر آثار قدیمہ کریسٹین ڈیسروچیس نوبل کورٹ نے کہا تھا کی فرعون کی لاش کو مصر سے باہر لے جانے کے لئے پاسپورٹ ہونا چاہئے۔
نیوزچیکر کی تحقیقات سے یہ ثابت ہوتاہے کہ فرعون کو مرنے کے 3 ہزار سال بعد بھی کوئی پاسپورٹ جاری نہیں کیا گیا ہے۔وائرل ہو رہے پاسپورٹ کی تصویر محض نمائندگی کے مقصد سے بنائی گئی تھی۔اصل پاسپورٹ عوام کے لئے دستیاب نہیں ہے۔
UT:https://www.ut-capitole.fr/m-mathieu-touzeil-divina–535910.kjsp
h:https://www.heritagedaily.com/2020/03/the-passport-of-ramesses-ii/126812
en:https://www.youtube.com/watch?t=789&v=9xI5jAjIZyc&feature=youtu.be
nyt:https://www.nytimes.com/1976/09/28/archives/paris-mounts-honor-guard-for-a-mummy.html
IM:https://www.imdb.com/title/tt6830934/
R:https://drive.google.com/file/d/1WZxsyCwWGSV2g5jnb09_v75ECCvvkwcY/view?usp=sharing
نوٹ:کسی بھی مشتبہ خبرکی تحقیق،ترمیم یا دیگرتجاویز کے لئے ہمیں نیچے دئیے گئے واہٹس ایپ نمبر پر آپ اپنی رائے ارسال کر سکتےہیں۔
9999499044
Mohammed Zakariya
July 23, 2021
Mohammed Zakariya
September 29, 2021
Mohammed Zakariya
February 2, 2022