About: http://data.cimple.eu/claim-review/28b827ef62e22e81f2b59db54a39bc72bb1dd50ad5ac72536c4ecf36     Goto   Sponge   NotDistinct   Permalink

An Entity of Type : schema:ClaimReview, within Data Space : data.cimple.eu associated with source document(s)

AttributesValues
rdf:type
http://data.cimple...lizedReviewRating
schema:url
schema:text
  • Newchecker.in is an independent fact-checking initiative of NC Media Networks Pvt. Ltd. We welcome our readers to send us claims to fact check. If you believe a story or statement deserves a fact check, or an error has been made with a published fact check Contact Us: checkthis@newschecker.in Fact checks doneFOLLOW US Crime Claim بھارت میں اکثریتی طبقے کے لوگ مسلمان خواتین کو ہراساں کر جبراً اٹھا کر لے جا رہے ہیں۔ Fact وائرل ویڈیو تقریباً 7 سال پرانی ہے اور بھارت کے رامپور میں 2 دلت ہندو خواتین کو مسلمان نوجوانوں کی جانب سے ہراساں کئے جانے کی ہے۔ ان دنوں ایس ایس جی پی ٹی آئی نامی ایک ایکس ہینڈل سے مسلسل فرضی دعوے کے ساتھ بھارت مخالف پوسٹ شیئر کئے جا رہے ہیں۔ رواں ماہ کی 20 تاریخ کو صارف نے ایک ویڈیو شیئر کیا ہے۔ جس میں کچھ نوجوان 2 خواتین کو ہراساں کرتے ہوئے نظر آرہے ہیں۔ دعویٰ ہے کہ یہ خواتین مسلمان ہیں اور بھارت میں انہیں اکثریتی طبقہ کے لوگ گھر سے اٹھا کر جبراً لے جا رہے ہیں اور اعتراض کرنے پر انہیں زد و کوب کر رہے ہیں۔ صارف نے ویڈیو کے ساتھ کیپشن میں لکھا ہے کہ “ہندو لوگ مسلمان عورتوں کا اٹھانے کے لئے گروپ بنا کر اتے ہیں مذمت پر تشدد کر رہے ہیں ،انڈیا کا بدنما کالا جمہوری چہرہ”۔ مسلمان خواتین کو ہراساں کرنے کا بتاکر شیئر کی گئی ویڈیو کو ہم نے کچھ ٹولس کی مدد سے تلاشا۔ جہاں ہمیں ہوبہو ویڈیو کے ساتھ 28 مئی 2017 کو شائع انڈیا ٹی وی، انڈین ایکس پریس اور ٹائم آف انڈیا کی رپورٹس موصول ہوئیں۔ ان رپورٹس کے مطابق ویڈیو اترپردیش کے رام پور کے ٹانڈا کی ہے۔ جہاں 12 سے 14 لڑکوں نے دو خواتین کو سرِ راہ ہراساں کیا تھا۔ مزید سرچ کے دوران ہمیں وائرل ویڈیو سے متعلق 1 جون 2017 کو شائع شدہ نیوز لانڈری کی ایک رپورٹ موصول ہوئی۔ نیوز لانڈری نے یوپی پولس کے حوالے سے لکھا ہے کہ وائرل ویڈیو میں نظر آرہی خواتین کا تعلق اکثریت طبقہ کے دلت سماج سے ہے۔ پولس نے اس معاملے میں 9 افراد کو گرفتار کیا تھا، جس پر ایس سی ایس ٹی ایکٹ کے تحت کیس بھی درج کیا گیا تھا۔ وہیں رپورٹ میں یہ بھی لکھا ہے کہ متاثرہ خواتین کے ساتھ چھیڑ خانی کر رہے نوجوانوں کا تعلق مسلم سماج سے تھا۔ لہٰذا مذکورہ سبھی تحقیقات سے یہ ثابت ہوا کہ خواتین کو ہراساں کرنے کی یہ ویڈیو 2017 کی ہے اور خواتین مسلمان نہیں ہیں بلکہ ان کا تعلق ہندو دلت سماج سے ہے۔ Sources Reports published by Times of India, The Indian Express and India TV on 28 May 2017 Report published by Newslaundry on 1 Jun 2017 نوٹ: کسی بھی مشتبہ خبر کی تحقیق، ترمیم یا دیگر تجاویز کے لئے ہمیں واہٹس ایپ نمبر 9999499044 پر آپ اپنی رائے ارسال کر سکتے ہیں۔ ساتھ ہی ہمارے واہٹس ایپ چینل کو بھی فالو کریں۔
schema:mentions
schema:reviewRating
schema:author
schema:datePublished
schema:inLanguage
  • Hindi
schema:itemReviewed
Faceted Search & Find service v1.16.115 as of Oct 09 2023


Alternative Linked Data Documents: ODE     Content Formats:   [cxml] [csv]     RDF   [text] [turtle] [ld+json] [rdf+json] [rdf+xml]     ODATA   [atom+xml] [odata+json]     Microdata   [microdata+json] [html]    About   
This material is Open Knowledge   W3C Semantic Web Technology [RDF Data] Valid XHTML + RDFa
OpenLink Virtuoso version 07.20.3238 as of Jul 16 2024, on Linux (x86_64-pc-linux-musl), Single-Server Edition (126 GB total memory, 11 GB memory in use)
Data on this page belongs to its respective rights holders.
Virtuoso Faceted Browser Copyright © 2009-2025 OpenLink Software