About: http://data.cimple.eu/claim-review/2cccbc98e7b5a3f795d6c66a330e3610cf3e273e2283b8be5e6cc2ed     Goto   Sponge   NotDistinct   Permalink

An Entity of Type : schema:ClaimReview, within Data Space : data.cimple.eu associated with source document(s)

AttributesValues
rdf:type
http://data.cimple...lizedReviewRating
schema:url
schema:text
  • Newchecker.in is an independent fact-checking initiative of NC Media Networks Pvt. Ltd. We welcome our readers to send us claims to fact check. If you believe a story or statement deserves a fact check, or an error has been made with a published fact check Contact Us: checkthis@newschecker.in Fact checks doneFOLLOW US Fact Check Cliam فیس بک اور ایکس پر ایک تصویر شیئر کی جا رہی ہے۔ جس میں زمین پر الٹا لیٹے ہوئے شخص پر پولس اہلکار بندوق تانے ہوئے نظر آرہا ہے۔ صارفین کا دعویٰ ہے کی یہ تصویر یمن میں نابالغ بچی کی عصمت ریزی کرنے والے مجرم کو سرِعام سزائے موت دینے کی ہے۔ آر ٹی ای اردو نامی مستند ایکس صارف نے تصویر کے ساتھ کیپشن میں لکھا ہے کہ “یمن میں تین سالہ بچی کو زیادتی کا نشانہ بنانے اور بعد میں قتل کرنے والے کو سرعام مجمع میں گولی کے ساتھ موت کے گھاٹ اتار دیا گیا”۔ وائرل پوسٹ کا آرکائیو لنک یہاں اور یہاں دیکھیں۔ Fact یمن میں نابالغ بچی کی عصمت ریزی کے جرم میں سرعام موت کی سزا دینے کا بتاکر شیئر کی گئی تصویر کو ہم نے گوگل لینس پر سرچ کیا۔ جہاں ہمیں 5 جنوری 2016 کو شیئر شدہ ہیلو ایکسکیوز می نامی فیس بک پیج پر ہوبہو تصویر ملی۔ جس میں اس تصویر کے حوالے سے لکھا ہے کہ یمن میں 11 سالہ لڑکے کو زیادتی کے بعد قتل کرنے کے جرم میں ایک حجام کو سرعام یمن کے صنعاء میں سزائے موت دی گئی۔ پھر ہم نے مذکورہ کیورڈ کے ساتھ تصویر کو ریورس امیج سرچ کیا۔ جہاں ہمیں دی سین ڈیاگو یونیئن ٹریبیون نامی ویب سائٹ پر یہی تصویر موصول ہوئی، جسے 6 جولائی 2009 کو شائع کیا گیا تھا۔ تصویر کے ساتھ دی گئی معلومات کے مطابق 2008 کے دسمبر ماہ میں عید الاضحیٰ کے موقع پر حمادی القصاب نامی 11 سالہ لڑکے کے ساتھ سیلون میں یحیٰ حسین نامی شخص نے عصمت دری کے بعد، بچے کے جسم کو ٹکڑوں میں تقسیم کرکے دفنا دیا تھا۔ جس کے بعد 2009 میں مجرم نے اپنا جرم قبول کیا تو عدالت نے اسے سرعام سزائے موت دینے کا فیصلہ سنایا تھا۔ جس کے بعد اس کے ہاتھ باندھ کر شہر بھر میں گھمایا گیا تھا اور بعد میں اسے چار گولی مار کر سرعام سزا دی گئی تھی۔ لہٰذا نیوز چیکر کی تحقیقات میں یہ ثابت ہوا کہ یہ واقعہ 2009 کا ہے جس میں عصمت دری کا معاملہ کسی لڑکی کے ساتھ نہیں بلکہ 11 سالہ لڑکے کے ساتھ پیش آیا تھا۔ یہ درست ہے کہ مجرم کو سرعام گولی مار کر سزا دی گئی تھی۔ Sources Facebook post by Hello Excuse Me ? on 05Jan 2016 Report published by The San Diego Union-Tribune on July 6, 2009 نوٹ: کسی بھی مشتبہ خبر کی تحقیق، ترمیم یا دیگر تجاویز کے لئے ہمیں واہٹس ایپ نمبر 9999499044 پر آپ اپنی رائے ارسال کر سکتے ہیں۔ ساتھ ہی ہمارے واہٹس ایپ چینل کو بھی فالو کریں۔
schema:mentions
schema:reviewRating
schema:author
schema:datePublished
schema:inLanguage
  • Hindi
schema:itemReviewed
Faceted Search & Find service v1.16.115 as of Oct 09 2023


Alternative Linked Data Documents: ODE     Content Formats:   [cxml] [csv]     RDF   [text] [turtle] [ld+json] [rdf+json] [rdf+xml]     ODATA   [atom+xml] [odata+json]     Microdata   [microdata+json] [html]    About   
This material is Open Knowledge   W3C Semantic Web Technology [RDF Data] Valid XHTML + RDFa
OpenLink Virtuoso version 07.20.3238 as of Jul 16 2024, on Linux (x86_64-pc-linux-musl), Single-Server Edition (126 GB total memory, 11 GB memory in use)
Data on this page belongs to its respective rights holders.
Virtuoso Faceted Browser Copyright © 2009-2025 OpenLink Software