Newchecker.in is an independent fact-checking initiative of NC Media Networks Pvt. Ltd. We welcome our readers to send us claims to fact check. If you believe a story or statement deserves a fact check, or an error has been made with a published fact check
Contact Us: checkthis@newschecker.in
Fact checks doneFOLLOW US
Fact Check
عمران خان پر آج یعنی 3 نومبر 2022 کو ہوئے حالیہ حملے کے بعد سوشل میڈیا پر منفرد تصاویر و ویڈیو ز شیئر کئے جا رہے ہیں۔ ایسے ہی دعوے کے ساتھ ایک تصویر شیئر کی جا رہی ہے، جس میں عمران خان اسٹریچر پر لیٹے نظر آ رہے ہیں۔ صارف کا دعویٰ ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے چیئر مین عمران خان کی یہ تصویر 3 نومبر کو ہوئے حملے میں زخمی ہونے کے بعد کی ہے۔
فیس بک پر بھی اس تصویر کو حالیہ حادثے سے جوڑ کر شیئر کیا جا رہا ہے۔
اسٹریچر پر لیٹے عمران خان کی تصویر کی سچائی جاننے کے لئے ہم نے سب سے پہلے تصویر کو گوگل ریورس امیج سرچ کیا۔ اس دوران ہمیں ڈان نیوز نامی ویب سائٹ پر اسی تصویر سے ملتی جلتی ایک تصویر کے ساتھ 17 اگست 2014 کو شائع شدہ ایک آرٹیکل ملا۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ عمران خان نے اس وقت کے وزیر اعظم نواز شریف کے خلاف احتجاج کیا تھا۔
اس کے علاوہ ہمیں دی ہندو نیوز ویب سائٹ پر بھی 17 اگست 2014 کو شائع ایک خبر ملی۔ جس میں دی ہندو نے اسی تصویر کے ساتھ عمران خان کا ایک ٹویٹ منسلک کیا ہوا ہے۔ پھر یہاں سے ہم عمران خان کے آفیشل ٹویٹر ہینڈل پر پہنچے اور وہاں ان کے ٹویٹ پر نظر ثانی کی تو 17 اگست 2014 کو ہی صبھح 8:14 منٹ پر شیئر کیا گیا ان کا ایک ٹویٹ ملا۔ جس میں انہوں نے اسی تصویر کو شیئر کیا ہے، جسے حالیہ ہوئے ان پر حملے کے بعد کا بتاکر شیئر کیا جا رہا ہے۔ تصویر کو “دھرنے کی رات” کیپشن کے ساتھ پوسٹ کیا ہے۔
اس طرح نیوز چیکر کی تحقیقات سے واضح ہوا کہ عمران پر حالیہ ہوئے حملے کے بعد اسپتال پہنچنے کی بتا کر جو تصویر شیئر کی جا رہے، وہ دراصل 8 سال پرانی ہے۔
Our Sources
Report published by Dawn News on 17 Aug 2014
Report published by The Hindu on 17 Aug 2014
Tweet by Imran khan on 17 Aug 2014
کسی بھی مشکوک خبر کی تحقیقات، تصحیح یا دیگر تجاویز کے لیے ہمیں واٹس ایپ کریں: 9999499044 یا ای میل: checkthis@newschecker.in
Mohammed Zakariya
December 3, 2024
Mohammed Zakariya
December 2, 2024
Mohammed Zakariya
November 12, 2024