فیکٹ چیک: وائرل ویڈیو چینی سفارت خانہ میں سعودی وزیر دفاع پر آتش بازی کا نہیں، کویت میں ہوئی فوجی ٹریننگ کا ہے
وشواس نیوز نے اپنی پڑتال میں پایا کہ وائرل کیا جا رہا دعوی فرضی ہے۔ یہ ویڈیو کویت میں ہوئی ایک موک فوجی ٹریننگ کا ہے۔ وائرل کئے جا رہے اس ویڈیو کا چینی سفارت خانے یا سعودی عرب کے وزیر دفاع سے کوئی تعلق نہیں ہے
- By: Umam Noor
- Published: Jan 28, 2025 at 03:39 PM
- Updated: Jan 28, 2025 at 05:10 PM
نئی دہلی (وشواس نیوز)۔ سوشل میڈیا کے مختلف پلیٹفارمز پر ایک ویڈیو وائرل ہو رہا ہے۔ وائرل ویڈیو میں ایک شخص کو قافلے کے ساتھ گاڑی سے اترتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ تبھی وہاں آتش بازی شروع ہو جاتی ہے اور تمام سیکیورٹی اہلکار گاڑی سے واپس لوٹ کر جاتے ہوئے دیکھے جا سکتے ہیں۔ ویڈیو کو شیئر کرتے ہوئے دعوی کیا جا ہے کہ سعودی وزیر دفاع جب چینی سفارت خانے گئے تو وہاں آتش بازی ہو گئی جس کا انہیں اندازہ نہیں تھا۔
وشواس نیوز نے اپنی پڑتال میں پایا کہ وائرل کیا جا رہا دعوی فرضی ہے۔ یہ ویڈیو کویت میں ہوئی ایک موک فوجی ٹریننگ کا ہے۔ وائرل کئے جا رہے اس ویڈیو کا چینی سفارت خانے یا سعودی عرب کے وزیر دفاع سے کوئی تعلق نہیں ہے
کیا ہے وائرل پوسٹ میں؟
فیس بک صارف نے پوسٹ کو شیئر کرتے ہوئے لکھا، ’سعودی وزیر دفاع ریاض میں چینی سفارت خانے کا دورہ کیا، چینی سفارت خانہ نے یہ نہیں بتایا کہ آپ کے استقبال کے لئے پٹاخے بھی چلائیں گے۔
پوسٹ کے آرکائیو ورژن کو یہاں دیکھیں۔
پڑتال
اپنی پڑتال کو شروع کرتے ہوئے سب سے پہلے ہم نے ویڈیو کو میں نے ویڈیو کے کی فریمس نکالے اور انہیں گوگل لینس کے ذریعہ سرچ کیا۔ سرچ کئے جانے پر ہمیں یہ ویڈیو متعدد سوشل میڈیا ہینڈل پر اپلوڈ ہوا ملا۔ انہیں میں ،’الحدث الإخبارية‘ نام کے ایکس ہینڈل اسی ویڈیو سے متعلق خبر ملی۔ 12 دسمبر 2019 کو اپلوڈ کی گئی خبر کے مطابق، ’خلیجی دفاع اور ایوی ایشن کی نمائش میں امیرات کے سیکورٹی فرسز کی موک فوجی ٹریٹنگ‘۔
اسی بنیاد پر ہم نے اپنی پڑتال کو آگے بڑھایا اور ہمیں اس سے متعلق ویڈیو 12 دسمبر 2019 کو اپلوڈ ہوئے یوٹیوب چینل پر ملا۔ اس ویڈیو میں وائرل ویڈیو سے ملتے جلتے مناظر کو دیکھا جا سکتا ہے۔ وہیں ویڈیو کے ساتھ دی گئی معلومات کے مطابق، ’خلیجی دفاع اور ایوی ایشن کی نمائش اپنے پانچویں ایڈیشن میں ہتھیاروں کے شعبوں میں ہونے والی تازہ ترین پیشرفت سے باخبر‘۔
کویت حکومت کی ویب سائٹ پربھی ہمیں اسی فوجی ایکسپو سے متعلق خبر ملی۔ خبر میں یہاں پڑھا جا سکتا ہے۔
یہ ویڈیو اسے سے قبل بھی وائرل ہو چکا ہے اور اس وقت ہم نے ویڈیو سے متعلق مزید تصدیق کے لئے کویت کے صحافی مالك باقر أسد سے ذریعہ رابطہ کیا تھا۔ انہوں نے ہمیں بتایا کہ تھا، یہ کویت کا ویڈیو ہے۔ اور یہ ذاتی تحفظ کی ٹریننگ کا حصہ تھا‘۔
پوسٹ کو فرضی دعوی کے ساتھ شیئر کرنے والے فیس بک پیج کی سوشل اسکیننگ میں ہم نے پایا کہ نام کے اس پیج کو دو لاکھ سے زیادہ فالوو کرتے ہیں۔
نتیجہ: وشواس نیوز نے اپنی پڑتال میں پایا کہ وائرل کیا جا رہا دعوی فرضی ہے۔ یہ ویڈیو کویت میں ہوئی ایک موک فوجی ٹریننگ کا ہے۔ وائرل کئے جا رہے اس ویڈیو کا چینی سفارت خانے یا سعودی عرب کے وزیر دفاع سے کوئی تعلق نہیں ہے
- Claim Review : سعودی وزیر دفاع جب چینی سفارت خانے گئے تو وہاں آتش بازی ہوئی جس کا ان کو بالکل اندازہ نہیں تھا تو اسے دیکھ کر وہ اور ان کے تمام سیکیورٹی فورسز بھاگ کھڑے ہوئے۔
- Claimed By : FB User- Apna Wazirabad
- Fact Check : جھوٹ
مکمل حقیقت جانیں... کسی معلومات یا افواہ پر شک ہو تو ہمیں بتائیں
سب کو بتائیں، سچ جاننا آپ کا حق ہے۔ اگر آپ کو ایسے کسی بھی میسج یا افواہ پر شبہ ہے جس کا اثر معاشرے، ملک یا آپ پر ہو سکتا ہے تو ہمیں بتائیں۔ آپ نیچے دئے گئے کسی بھی ذرائع ابلاغ کے ذریعہ معلومات بھیج سکتے ہیں۔