Newchecker.in is an independent fact-checking initiative of NC Media Networks Pvt. Ltd. We welcome our readers to send us claims to fact check. If you believe a story or statement deserves a fact check, or an error has been made with a published fact check
Contact Us: checkthis@newschecker.in
Fact checks doneFOLLOW US
Fact Check
Claim
زارا کی جانب سے غزہ سے متعلق توہین آمیز اشتہار کی وجہ سے امریکی عوام نے برانڈ کے تمام کپڑے کمپنی کے سامنے پھینک دیئے۔
Fact
یہ ویڈیو فاسٹ فیشن بین نامی ورچوئل مہم کی ہے، جسے ویسٹائر کلیکٹیو کی جانب سے 16 نومبر کو شائع کیا گیا تھا۔
ان دنوں سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو گردش کر رہی ہے، جس میں زارا، یونیک لو، گیپ وغیرہ کے شوروم کے آگے کپڑوں کا ڈھیر نظر آ رہا ہے۔ صارفین اس ویڈیو کے ساتھ دعویٰ کر رہے ہیں کہ زارا کی جانب سے غزہ میں ہونے والی نسل کشی کا مذاق اڑانے والی اشتہاری تصاویر کے بعد امریکی عوام نے زارا برانڈ کے تمام کپڑے کمپنی کے سامنے پھینک دیئے۔
غزہ سے متعلق توہین آمیز اشتہار کے بعد زارا کے بائیکاٹ کا بتا کر شیئر کی گئی ویڈیو کو ہم نے جب غور سے دیکھا تو اس میں اوپر سے کچھ کپڑے اڑ کر گرتے ہوئے نظر آرہے ہیں۔ جس سے ایسا معلوم ہوا کہ یہ ویڈیو اصل نہیں بلکہ مصنوعی طور پر بنائی گئی ہے۔
مزید تحقیقات کو آگے بڑھاتے ہوئے ہم نے ویڈیو کو کیفریم میں تقسیم کیا اور اس کے ایک فریم کو ریورس امیج سرچ کیا۔ اس دوران ہمیں ویسٹیئر کو نامی آفیشل انسٹاگرام پیج پر ہوبہو ویڈیو ملی، جسے 16 نومبر کو شائع کیا گیا تھا۔ ویڈیو کے ساتھ دیئے گئے کیپشن کے مطابق ویسٹائر کلیکٹیو نے فاسٹ فیشن بین نامی ورچوئل مہم لاگو کی تھی۔ جس کا مقصد فیشن انڈسٹری کے مستقبل کو مزید پائیدار بنانا ہے۔
مزید ہم نے یہ بھی سرچ کرنے کی کوشش کی کہ کیا واقعی زارا نے ایسی کوئی مہم چلائی تھی, جس پر اس کا بائیکاٹ کیا جا رہا ہے۔ تو اس دوران ہمیں دی نیویارک ٹائمس اور دی کٹ نامی ویب سائٹ پر اس حوالے سے شائع رپورٹ موصول ہوئیں۔ جہاں ہم نے پایا کہ زارا نے “دی جیکٹ” نامی مہم گزشتہ 7 دسمبر کو لانچ کی تھی۔ جس پر لوگوں نے اسے اسرائیل حماس تنازعہ سے جوڑ کر زارا کے بائیکاٹ کی مانگ کی تھی۔
حالانکہ 12 دسمبر کو زارا نے انسٹاگرام پر وضاحت پیش کرتے ہوئے متنازعہ تصاویر ہٹا لی تھیں۔ کمپنی کی جانب سے جاری کردہ بیان میں واضح کیا گیا کہ اس مہم کو جولائی میں تصور کیا گیا تھا اور اسے ستمبر میں فلمایا گیا تھا۔
اس طرح نیوزچیکر کی تحقیقات سے یہ واضح ہوا کہ وائرل ویڈیو غزہ سے متعلق توہین آمیز اشتہار کے بعد کپڑوں کے برانڈ زارا کے بائیکاٹ کی نہیں ہے بلکہ ویسٹائر کلیکٹیو کی جانب سے چلائی گئی ایک ورچوئل مہم فاسٹ فیشن بین کی ہے، جسے 16 نومبر 2023 کو لانچ کیا گیا تھا۔
Sources
Instagram post by vestiaireco and zara on Nov 2023
Reports published by The New York Times and The Cut on Dec 2023
نوٹ: کسی بھی مشتبہ خبر کی تحقیق، ترمیم یا دیگر تجاویز کے لئے ہمیں واہٹس ایپ نمبر 9999499044 پر آپ اپنی رائے ارسال کر سکتے ہیں۔ ساتھ ہی ہمارے واہٹس ایپ چینل کو بھی فالو کریں۔
Mohammed Zakariya
October 28, 2024
Mohammed Zakariya
December 5, 2023
Mohammed Zakariya
November 24, 2023