Newchecker.in is an independent fact-checking initiative of NC Media Networks Pvt. Ltd. We welcome our readers to send us claims to fact check. If you believe a story or statement deserves a fact check, or an error has been made with a published fact check
Contact Us: checkthis@newschecker.in
Fact checks doneFOLLOW US
Coronavirus
سوشل میڈیا پر دعویٰ کیا جارہاہے کہ کرونا وائرس ویکسین کے ذریعے انسانی جسم میں مائیکروچپ ڈالا جارہاہے۔اس دعوے کے ساتھ صابر شاکر نامی شخص کی ایک تصویر بھی شیئر کی جارہی ہےکہ انہوں اس کا انکشاف کیا ہے۔درج ذیل میں وائرل پوسٹ کے آرکائیو لنک موجود ہیں۔
چودھری سعید اختر کے فیس بک پوسٹ کاآرکائیو لنک۔
ڈاکٹر خان کے پوسٹ کا آرکائیو لنک۔
جہانگیر کے پوسٹ کاآرکائیو لنک۔
سوشل میڈیا پر صابر شاکر کاحوالہ دےکر کروناویکسن کے ذریعے مائیکروچپ جسم میں ڈالنے کا دعویٰ کتنا سچ ہے؟یہ جاننےکےلئے ہم نے سب سے پہلے صابر شاکر کے اس ویڈی کو تلاشنا شروع کیا۔جس کا حوالہ دے کر سوشل میڈیا پر شیئر کیا جارہاہے۔ہم نے صابر شاکر کو فیس بک پر تلاش۔جہاں ہمیں صابر شاکر نام سے ایک آفیشل فیس بک پیج ملا۔لیکن ہمیں پیج پر کہیں بھی وائرل دعوے والا ویڈیو نہیں ملا۔
پھر ہم نے ویڈیو کو یوٹیوب پر سرچ کیا۔جہاں ہمیں صابر شاکرکی وائرل تصویر کے ساتھ کئےگئے دعوے والا10دسمبر 2020 کاایک ویڈیو نیوزبریکر نامی یوٹیوب چینل پر ملا۔جب ہم نے پورے ویڈیو کو غور سے سنا تو صابر شاکر یہ بتارہے ہیں کہ جو کروناویکسن کے ذریعے مائیکروچپ جسم میں ڈالنے کا دعویٰ کیاجارہاہے وہ فرضی ہے۔بتادوں کہ صابر شاکر پاکستانی یوٹیوبر ہیں۔
مذکورہ جانکاری سے واضح ہوچکا کہ صابرشاکر کے حوالے سے کیاگیا دعویٰ فرضی ہے۔پھر ہم نے مزید کیورڈ سرچ کیا اور یہ جاننے کی کوشش کی کہ آیا سچ میں انسانی جسم میں کروناویکسن کے ذریعے مائیکرو چپ ڈالا جارہاہے۔سرچ کے دوران ہمیں بی بی سی اردو پر 15نومبر 2020 کی ایک خبر ملی۔جس کے مطابق کروناویکسن کے ذریعے جسم میں مائیکرو چپ داخل کرنے اور ڈی این اے تبدیل کرنے کا دعویٰ فرضی ہے۔
سرچ کے دوران ہمیں سی بی این نیوزچینل پر وائرل دعوے کے حوالے سے جانکاری ملی۔جس کے مطابق ایپیجیکٹ(Apiject) کے ایگزکیوٹیو چیئر مین جےباکر بتارہے ہیں کہ آر ایف آئی ڈی(RFID) چپ ویکسن کے باہر لگائی جاتی ہےناکہ جسم کے اندر فٹ کی جاتی ہے۔دراصل چپ سے یہ جاننے میں مدد ملتی ہے کہ آخر کتنے لوگوں کو ویکسن لگ چکی ہے۔ویکسن کے ہرخوراق کے اوپربار کوڈ لگا ہوتا ہے۔
ریوٹرس نامی ویب سائٹ کے مطابق ایپجیکٹ نامی کمپنی کو امریکا نے کرونا وائرس کی ویکسین کا انجیکشن بنانےکےلئے قرض دیا تھا۔وہیں سوشل میڈیاپر وائرل ہورہے دعوے کو ریوٹرس پہلے ہی ڈیبنک کرچکا ہے۔
نیوزچیکر کی تحقیقات سے واضح ہوتا ہے کہ کروناوائرس کی ویکسین کے ذریعے جسم میں مائیکرو چپ داخل کرنے والا دعویٰ فرضی ہے۔دراصل ایپجیکٹ نامی کمپنی کے ایگزکیوٹیو چیئر مین جےباکر کے مطابق آر ایف آئی ڈی(RFID) چپ ویکسن کے باہر لگائی جاتی ہےناکہ جسم کے اندر فٹ کی جاتی ہے۔
Fb:https://www.facebook.com/SabirShakirARY
YT:https://www.youtube.com/watch?v=1u8kHOQaLzc
BBC:https://www.bbc.com/urdu/science-54948991
CBN:https://www.youtube.com/watch?v=WllUZVwQBZ8&feature=emb_title
Reuters:https://in.reuters.com/article/us-health-coronavirus-usa-apijet/apiject-gets-590-million-u-s-loan-to-produce-covid-19-vaccine-injections-idUSKBN27Z2UJ
نوٹ:کسی بھی مشتبہ خبرکی تحقیق،ترمیم یا دیگرتجاویز کے لئے ہمیں نیچے دئیے گئے واہٹس ایپ نمبر پر آپ اپنی رائے ارسال کر سکتےہیں۔
9999499044