Newchecker.in is an independent fact-checking initiative of NC Media Networks Pvt. Ltd. We welcome our readers to send us claims to fact check. If you believe a story or statement deserves a fact check, or an error has been made with a published fact check
Contact Us: checkthis@newschecker.in
Fact checks doneFOLLOW US
Fact Check
سائنس لیب میں بچوں کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہورہی ہے۔ دعویٰ کیا جارہا ہے کہ اب مصنوعی رحم کے ذریعے سائنس لیب میں سالانہ 30000 بچے پیدا ہوسکتے ہیں۔ ایکٹولائف کی ایک ویڈیو شیئر کرتے ہوئے صارف نے کیپشن میں لکھا ہے کہ “دنیا کی پہلی مصنوعی رحم کی سہولت، ایکٹولائف، ایک سال میں 30,000 بچوں کو جنم دے سکتی ہے۔ اب فارمی مرغیوں فارمی مچھلیوں کی طرح فارمی بچوں کی بھی پیدائش”۔
وائرل پوسٹ کا آرکائیو لنک آپ یہاں، یہاں، یہاں اور یہاں دیکھ سکتے ہیں۔
مصنوعی رحم کے ذریعے سائنس لیب میں بچے پیدا ہونے والے دعوے کی سچائی جاننے کے لئے سب سے پہلے کچھ کیورڈ سرچ کیا۔ اس دوران ہمیں ہاشم الغیلی کے یوٹیوب چینل پر 9 دسمبر 2022 کو اپلوڈ شدہ وائرل ویڈیو ملی۔ ویڈیو کے مکمل ہونے سے ٹھیک پہلے تقریباً 8:25 منٹ پر دیئے گئے کریڈٹ میں یہ واضح کیا گیا ہے کہ یہ سہولت اور تکنیک فی الحال محض ایک خیالی ہے۔
مزید سرچ کے دوران ہمیں ہاشم الغیلی کی ویب سائٹ بھی ملی، جس کے مطابق ہاشم الغیلی برلن، جرمنی میں مقیم ایک پروڈیوسر، فلم ساز اور سائنس کمنیوکیٹر ہیں۔
ساتھ ہی ہاشم الغیلی کے ویری فائڈ فیس بک پیج پر بھی 9 دسمبر 2022 کو اپلوڈ شدہ مذکورہ ویڈیو ملی۔ جس کے کمنٹ باکس میں “اور جانیں کمنٹ کے ساتھ 3 لنک” موجود تھے۔ پہلا لنک سائنس اینڈ اسٹف ڈاٹ کام پر شائع ایک آرٹیکل کا تھا۔ جس کا عنوان ہے”خصوصی: دنیا کی پہلی مصنوعی رحم سہولت کا خیال منظرِ عام پر”۔ یہ سائنس اینڈ اسٹف ہاشم الغیلی کی مشترکہ قائم کردہ ویب سائٹ ہے۔
دوسرے لنک میں ایک فائل شیئر کی گئی ہے جس میں ایکٹولائف کا لوگو، تصویر، ویڈیو و 3 پیج پر مشتمل ایک پریس کانفرینس موجود ہے۔ پریس کانفرینس میں ہاشم الغیلی کا مختصر تعارف بھی شامل ہے۔ تیسرا لنک ان کے یوٹیوب چینل کا ہے۔
مزید سرچ کے دوران ہمیں ہاشم الغیلی کا 14 دسمبر 2022 کو شیئر شدہ ایک انسٹاگرام پوسٹ بھی ملا۔ جس میں ‘ہفنگٹن یو کے’ میں شائع آرٹیکل کا ایک پیراگراف تھا۔ جس میں کنگ کالج لندن کے پروفیسر اینڈریو شینان کے خیالات لکھا ہے۔
اس کے علاوہ ہاشم الغیلی کا ایک اور 21دسمبر 2022 کو شیئر شدہ فیس بک پوسٹ ملا، جس میں انہوں نے واضح طور پر بتایا ہے کہ یہ فی الحال محض ایک خیالی ہے جو کہ 100 فیصد سائنسیی ریسرچ پر مشتمل ہے۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ اس پروجیکٹ کی راہ میں کچھ اخلاقی پابندیاں بھی درپیش ہیں۔ اگر ہم ان سبھی پابندیوں میں کچھ ڈھیل دی گئی تو ممکن ہے کہ آنے والے 10-15 سالوں میں یہ خیال سچ کی صورت اختیار کر لے گا۔
نیوز چیکر کی تحقیقات میں واضح ہوتا ہے کہ مصنوعی رحم کے ذریعے سائنس لیب میں پیدا ہوں گے سالانہ 30000 انسانی بچے والا دعویٰ فرضی ہے۔ فی الحال یہ محض ایک خیال ہے۔
Sources
Youtube video of Hashem Al-Ghaili on December 9,2022
Website of Hashem Al-Ghaili
Facebook post of Hashem Al-Ghaili on December 9,2022
Article in the website scienceandstuff.com on December 9, 2022
Instagram post of Hashem Al-Ghaili on December 13, 2022
Facebook post of Hashem Al-Ghaili on December 21, 2022
نوٹ: کسی بھی مشتبہ خبرکی تحقیق،ترمیم یا دیگرتجاویز کے لئے ہمیں نیچے دئیے گئے واہٹس ایپ نمبر پر آپ اپنی رائے ارسال کرسکتے ہیں۔ 9999499044