About: http://data.cimple.eu/claim-review/e12081ab903bb1f1dc5eba58f4503b4a8d731229d140cc40fee442a7     Goto   Sponge   NotDistinct   Permalink

An Entity of Type : schema:ClaimReview, within Data Space : data.cimple.eu associated with source document(s)

AttributesValues
rdf:type
http://data.cimple...lizedReviewRating
schema:url
schema:text
  • Newchecker.in is an independent fact-checking initiative of NC Media Networks Pvt. Ltd. We welcome our readers to send us claims to fact check. If you believe a story or statement deserves a fact check, or an error has been made with a published fact check Contact Us: checkthis@newschecker.in Fact checks doneFOLLOW US Crime سوشل میڈیا پر ایک تصویر کو افغانستان کے مزار شریف مسجد میں ہوئے دھماکے سے جوڑکر شیئر کیا جا رہا ہے۔ تصویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ فرش پر بچھی قالین پر ملبے بکھرے پڑے ہیں اور لوگ اسے دیکھ رہے ہیں۔ تصویر کے ساتھ صارفین نے کیپشن میں لکھا ہے کہ “افغانستان کے شہر بلخ کی مزار شریف کی قدیمی شیعہ مسجد میں نماز ظہر کے وقت خودکش حملے میں 30 افراد جاں بحق اور 70 زخمی ہوئے ہیں”۔ افغانستان کی مختلف جگہوں پر 22 اپریل 2022 کو دھماکہ ہوا، جس میں 30 سے زائد افراد کی اموات ہو گئی۔ وائس آف امریکہ اردو کے مطابق اس حادثے میں سب سے زیادہ جانی نقصان مزار شریف کی شیعہ مسجد میں ہوا، اس حادثے کی ذمہ داری شدت پسند تنظیم داعش نے قبول کی ہے۔ اسی کے پیش نظر سوشل میڈیا پر ایک تصویر وائرل ہو رہی ہے، جسے فیس بک صارفین مزار شریف مسجد دھماکے سے جوڑ کر مختلف کیپشن کے ساتھ شیئر کر رہے ہیں۔ افغانستان کی مزار شریف مسجد میں ہوئے دھماکے سے جوڑ کر شیئر کی گئی تصویر کو ہم نے ریورس امیج سرچ کیا۔ اس دوران ہمیں دی ٹریبیون انڈیا اور عرب نیوز پر تصویر کے ساتھ شائع اگست 2018 کی رپورٹس ملیں۔ دونوں ہی رپورٹس میں نیوز ایجنسی اے ایف پی کے حوالے سے لکھا ہے کہ افغانستان میں 3 اگست 2018 کو پکتیا صوبے کے گردیز میں نماز جمعہ کے دوران ہوئے خودکش حملے کے بعد تباہ شدہ مسجد کا جائزہ لے رہے لوگوں کی یہ تصویر ہے۔ یہی تصویر ہمیں گیٹی امیج کی ویب سائٹ پر بھی ملی۔ جس کے ساتھ دی گئی جانکاری کے مطابق ”افغانستان میں شیعہ مسجد میں جمعہ کی نماز کے دوران خودکش حملہ ہوا تھا۔ جس میں 29 لوگوں کی موت ہو گئی تھی اور تقریبا 80 افراد زخمی ہوئے تھے۔ یہ حملہ ریاست پکتیا کے گردیز میں 3 اگست 2018 کو برقعہ پوش نے کیا تھا۔ اس وقت مسجد نمازیوں سے بھری تھی۔ تصویر میں نظر آرہے شخص افغانی ہیں جو حملے کے بعد مسجد کا جائزہ لے رہے ہیں”۔ اس تصویر کا کریڈٹ فرید ظاہر/ اے ایف پی کو دیا گیا ہے۔ ان رپورٹس سے واضح ہو چکا کہ تصویر پرانی ہے اور مزار شریف مسجد میں ہوئے دھماکے کی نہیں ہے۔ نیوز چیکر کی تحقیقات میں یہ ثابت ہوتا ہے کہ یہ تصویر افغانستان کے مزار شریف مسجد میں ہوئے دھماکے کی نہیں ہے، بلک 2018 میں افغانستان کی ریاست پکتیا کے گردیز کی مسجد میں ہوئے خود کش حملے کے بعد کی ہے۔ اس تصویر کا حالیہ دھماکے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ Our Sources Report Published by The Tribune India Report Published by Arab News Image Published by Getty Images نوٹ: کسی بھی مشتبہ خبرکی تحقیق،ترمیم یا دیگرتجاویز کے لئے ہمیں نیچے دئیے گئے واہٹس ایپ نمبر پر آپ اپنی رائے ارسال کر سکتےہیں۔ 9999499044 Mohammed Zakariya February 1, 2023 Mohammed Zakariya January 31, 2023 Mohammed Zakariya August 20, 2020
schema:mentions
schema:reviewRating
schema:author
schema:datePublished
schema:inLanguage
  • Hindi
schema:itemReviewed
Faceted Search & Find service v1.16.115 as of Oct 09 2023


Alternative Linked Data Documents: ODE     Content Formats:   [cxml] [csv]     RDF   [text] [turtle] [ld+json] [rdf+json] [rdf+xml]     ODATA   [atom+xml] [odata+json]     Microdata   [microdata+json] [html]    About   
This material is Open Knowledge   W3C Semantic Web Technology [RDF Data] Valid XHTML + RDFa
OpenLink Virtuoso version 07.20.3238 as of Jul 16 2024, on Linux (x86_64-pc-linux-musl), Single-Server Edition (126 GB total memory, 11 GB memory in use)
Data on this page belongs to its respective rights holders.
Virtuoso Faceted Browser Copyright © 2009-2025 OpenLink Software