فیکٹ چیک: بشار الاسد کی تصویر ماسکو کی نہیں، پرانی فوٹو تختہ پلٹ کے بعد وائرل
وشواس نیوز نے اپنی پڑتال میں پایا کہ شام کے سابق صدر بشار الاسد اور ان کی اہلیہ کی تصویر سال 2023 کی ہے۔ یہ تصویر اس وقت کی ہے جب وہ شامی صدر تھے اور زلزلہ متاثرین کے ملنے کے لئے حلب پہنچے تھے۔ پرانی تصویر کو گمراہ کن حوالے سے شام کی موجودہ سیاسی حالات سے جوڑتے ہوئے پھیلایا جا رہا ہے۔
- By: Umam Noor
- Published: Dec 11, 2024 at 04:42 PM
نئی دہلی (وشواس نیوز)۔ ملک شام میں بشار الاسد کی حکومت گرنے کے بعد سے سوشل میڈیا پر ایک تصویر وائرل ہو رہی ہے۔ وائرل فوٹو میں سابق صدر بشار الاسد اور ان کی اہلیہ کی کو دیکھا جا سکتا ہے۔ وہیں اس تصویر کو شیئر کرتے ہوئے دعوی کیا جا رہا ہے کہ دونوں کی یہ تصویر ماسکو ایئرپورٹ کی ہے۔
وشواس نیوز نے اپنی پڑتال میں پایا کہ شام کے سابق صدر بشار الاسد اور ان کی اہلیہ کی تصویر سال 2023 کی ہے۔ یہ تصویر اس وقت کی ہے جب وہ شامی صدر تھے اور زلزلہ متاثرین کے ملنے کے لئے حلب پہنچے تھے۔ پرانی تصویر کو گمراہ کن حوالے سے شام کی موجودہ سیاسی حالات سے جوڑتے ہوئے پھیلایا جا رہا ہے۔
کیا ہے وائرل پوسٹ میں؟
فیس بک صارف نے وائرل پوسٹ کو شیئر کرتے ہوئے لکھا، ’’ماسکو ایئرپورٹ پر بشار الاسد اور اس کی بیوی کی پہلی تصویر۔ شکست خوردگی دیکھیں‘‘۔
پوسٹ کے آرکائیو ورژن کو یہاں دیکھیں۔
پڑتال
اپنی پڑتال کو شروع کرتے ہوئے سب سے پہلے ہم نے گوگل لینس کے ذریعہ وائرل فوٹو کو سرچ کیا۔ سرچ کئے جانے پر ہمیں اسی تصویر کے موقع والا ویڈیو وائس آف امریکہ کے فیس بک پر فروری 2023 کو اپلوڈ ہوا ملا۔ یہاں ویڈیو کے ساتھ دی گئی معلعومات کے مطابق،’شام کے صدر بشار الاسد نے جمعہ کو زلزلے سے تباہ ہونے والے حلب کے علاقے میں پہنچے اور ایک مقامی ہسپتال میں زخمی مریضوں کی عیادت کی۔7.8 شدت کے زلزلے کے چار دن بعد اسد اور ان کی اہلیہ، اسماء، کو حلب یونیورسٹی ہسپتال میں متاثرین کو تسلی دیتے ہوئے نظر آئے‘’۔
اسی ویڈیو وائس آف امریکہ کے یوٹیوب چینل پر بھی 11 فروری 2023 کو اپلوڈ کیا گیا ہے۔ یہاں بھی دی گئی معلومات کے مطابق یہ ویڈیو حلب میں اسپتال دورے کے دوران کا ہے۔
مزید سرچ کئے جانے پر ہمیں ہمیں اس معاملہ سے متعلق خبر روائٹرز کی ویب سائٹ پر 10 فروری 2023 کو شائع ہوئی ملی۔ یہاں خبر میں بتایا گیا کہ، شام میں ائے زلزلہ سے متاثرہ علاقہ کا دورہ صدر (اس وقت کے) بشار الاسد نے اپنی اہلیہ کے ساتھ کیا۔ انہوں نے اسپتال میں جاکر ان لوگوں سے ملاقات کی جو زلزلہ میں زخمی ہوئے تھے۔
اے پی نیوز ایجنسی کی فوٹو گیلری میں ہمیں شام کے اس وقت کے صدر (اس وقت کے) بشار الاسد کی متعدد تصاویر ملیں جن میں انہیں اور ان کی اہلیہ کو زلزلہ متاثرین کے ملتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔
خبروں کے مطابق، ’شام میں بشار الاسد حکومت کے خلاف اپوزیشن کے باغیوں نے ایک بڑی کارروائی کے بعد دارالحکومت دمشق پر کنٹرول حاصل کر لیا۔ باغیوں کے دمشق میں داخل ہونے کے بعد سابق صدر بشار الاسد دمشق سے فرار ہو گئے- جس کے بعد خبروں کے مطابق، بشار الاسد ماسکو میں ہیں اور روس نے انہیں بشمول اہل خانہ سیاسی پناہ دی ہے۔
وائرل تصویر سے متعلق تصدیق کے لئے ہم نے شامی صحافی عزالدین قسام سے رابطہ کیا اور انہوں نے ہمیں بتایا کہ یہ تصویر پرانی ہے حالاںکہ بشار الاسد کی حکومت گرنے کے بعد وہ ملک شام میں نہیں ہیں۔
گمراہ کن پوسٹ کو شیئر کرنے والے فیس بک صارف کی سوشل اسکیننگ میں ہم نے پایا کہ صارف کا تعلق پاکستان سے ہے۔
نتیجہ: وشواس نیوز نے اپنی پڑتال میں پایا کہ شام کے سابق صدر بشار الاسد اور ان کی اہلیہ کی تصویر سال 2023 کی ہے۔ یہ تصویر اس وقت کی ہے جب وہ شامی صدر تھے اور زلزلہ متاثرین کے ملنے کے لئے حلب پہنچے تھے۔ پرانی تصویر کو گمراہ کن حوالے سے شام کی موجودہ سیاسی حالات سے جوڑتے ہوئے پھیلایا جا رہا ہے۔
- Claim Review : بشار الاسد کی ماسکو ایئرپورٹ کی تصویر۔
- Claimed By : FB User- Hamiesh Khan Niazi Hamiesh
- Fact Check : گمراہ کن
مکمل حقیقت جانیں... کسی معلومات یا افواہ پر شک ہو تو ہمیں بتائیں
سب کو بتائیں، سچ جاننا آپ کا حق ہے۔ اگر آپ کو ایسے کسی بھی میسج یا افواہ پر شبہ ہے جس کا اثر معاشرے، ملک یا آپ پر ہو سکتا ہے تو ہمیں بتائیں۔ آپ نیچے دئے گئے کسی بھی ذرائع ابلاغ کے ذریعہ معلومات بھیج سکتے ہیں۔