About: http://data.cimple.eu/claim-review/19d79ff1a82b9f0765e4ddfed06e73fd5535771f29e7bd12cc7c90b9     Goto   Sponge   NotDistinct   Permalink

An Entity of Type : schema:ClaimReview, within Data Space : data.cimple.eu associated with source document(s)

AttributesValues
rdf:type
http://data.cimple...lizedReviewRating
schema:url
schema:text
  • Newchecker.in is an independent fact-checking initiative of NC Media Networks Pvt. Ltd. We welcome our readers to send us claims to fact check. If you believe a story or statement deserves a fact check, or an error has been made with a published fact check Contact Us: checkthis@newschecker.in Fact checks doneFOLLOW US Crime Claim ایکس ہینڈل کشمیر اردو کی جانب سے دہلی میں نوکری کے لئے مظاہرہ کررہی حاملہ خاتون کو گھسیٹے جانے کا بتا کر ایک ویڈیو شیئر کی گئی ہے، جس میں گلابی لباس میں ملبوس ایک خاتون کو کچھ لوگ اٹھاکر لے جاتے ہوئے نظر آرہے ہیں۔ ویڈیو کے دوسرے فریم میں ایک رپورٹر مائک لےکر خاتون سے بات کر رہا ہے اور تیسرے فریم میں دیگر لوگ ایک شخص کو پکڑے ہوئے نظر آرہے ہیں۔ صارف نے ویڈیو کے ساتھ لکھا ہے کہ “بھارت، دہلی میں اس خاتون، جو کہ 6 ماہ حاملہ تھی اور اپنی نوکری کے حق کے لئے احتجاج میں شریک ہوئی، کو بے دردی کے ساتھ گھسیٹا گیا۔ ان نوجوانوں کو سرکاری ملازمت کا امتحان پاس کرنے اور میرٹ پر آنے کے باوجود مودی سرکار نے نوکریاں نہیں دیں”۔ Fact ہم نے وائرل ویڈیو کے ایک فریم کو گوگل لینس کی مدد سے تلاشا۔ جہاں ہمیں 18 جون 2024 کو اپلوڈ شدہ آور راجکوٹ نامی یوٹیوب چینل پر دوسرے اینگل سے فلمائی گئی ایک ویڈیو موصول ہوئی۔ ویڈیو کے 8 منٹ 47 سکینڈ پر مذکورہ گلابی کپڑے والی خاتون کو بخوبی دیکھا جا سکتا ہے، جس میں اسے تین لوگ گھسیٹ کر لے جاتے ہوئے نظر آرہے ہیں۔ ویڈیو کے ساتھ دی گئی معلومات کے مطابق گجرات کے گاندھی نگر میں ٹی ای ٹی(ٹیچر الیجیبلٹی ٹیسٹ) اور ٹی اے ٹی(ٹیچر ایپٹیٹیوڈ ٹیسٹ) امیدواروں نے احتجاج کیا، جس کے بعد پولس اور ان امیدواروں کے درمیان جھڑپ بھی ہوئی۔ اس کے علاوہ ہوبہو ویڈیو ہمیں جماوت نامی یوٹیوب چینل پر موصول ہوئی۔ جس میں بھی اس ویڈیو کو گجرات کے گاندھی نگر کا بتایا گیا ہے۔ جہاں گیان سہائک ٹیچر اپنی بحالی کو لے کر مظاہرہ کر رہے تھے۔ جس کے بعد انتظامیہ کی جانب سے انہیں روکا گیا تھا۔ یہاں یہ واضح ہو گیا کہ ویڈیو دہلی کی نہیں بلکہ گجرات کی ہے ۔ لیکن ہم آزادانہ طورپر یہ ثابت نہیں کر سکے کہ جس خاتون کو گھسیٹا جا رہا ہے وہ حاملہ ہے یا نہیں۔ اس حوالے سے ٹائمس آف انڈیا کی رپورٹ یہاں پڑھ سکتے ہیں۔ یہ بھی پڑھیں: کیا وکاس پاٹھک نامی لڑکے نے اپنی ماں سے کی شادی؟ نہیں، یہاں پڑھیں پوری حقیقت اس طرح تحقیقات کے دوران ملے شواہد سے یہ ثابت ہوا کہ وائرل ویڈیو کے ساتھ کیا گیا دعویٰ گمراہ کن ہے، دراصل خاتون کو گھسیٹے جانے کی یہ ویڈیو دہلی کی نہیں بلکہ گجرات کی ہے۔ Sources Video published by Our Rajkot and Jamawat on June 18, 2024 Report published by Times of India on June 19, 2024 نوٹ: کسی بھی مشتبہ خبر کی تحقیق، ترمیم یا دیگر تجاویز کے لئے ہمیں واہٹس ایپ نمبر 9999499044 پر آپ اپنی رائے ارسال کر سکتے ہیں۔ ساتھ ہی ہمارے واہٹس ایپ چینل کو بھی فالو کریں۔ Mohammed Zakariya April 24, 2023 Mohammed Zakariya September 27, 2022 Mohammed Zakariya July 31, 2020
schema:mentions
schema:reviewRating
schema:author
schema:datePublished
schema:inLanguage
  • Hindi
schema:itemReviewed
Faceted Search & Find service v1.16.115 as of Oct 09 2023


Alternative Linked Data Documents: ODE     Content Formats:   [cxml] [csv]     RDF   [text] [turtle] [ld+json] [rdf+json] [rdf+xml]     ODATA   [atom+xml] [odata+json]     Microdata   [microdata+json] [html]    About   
This material is Open Knowledge   W3C Semantic Web Technology [RDF Data] Valid XHTML + RDFa
OpenLink Virtuoso version 07.20.3238 as of Jul 16 2024, on Linux (x86_64-pc-linux-musl), Single-Server Edition (126 GB total memory, 11 GB memory in use)
Data on this page belongs to its respective rights holders.
Virtuoso Faceted Browser Copyright © 2009-2025 OpenLink Software