About: http://data.cimple.eu/claim-review/52a0dcf62bce374b0e02df4b759ce8dacaf551c044c33caac9440ca3     Goto   Sponge   NotDistinct   Permalink

An Entity of Type : schema:ClaimReview, within Data Space : data.cimple.eu associated with source document(s)

AttributesValues
rdf:type
http://data.cimple...lizedReviewRating
schema:url
schema:text
  • Fact Check: دہلی میں مسلمانوں کی طرف سے چہلم کے جلوس کو G20 سربراہی اجلاس سے قبل احتجاجی ریلی کے طور پر پیش کیا گیا مذہبی نعرے لگاتی خواتین کو سڑکوں پر اتارا گیا تھا۔ آج ہندووں کی جنم آشٹمی کی شوبھا یاترا تک منسوخ ہے تو یہ لوگ کیسے سڑکوں پر اتر گئے؟ Claim : دہلی میں G20 سمٹ کے دوران، دفعہ 144 نفاذ کے خلاف مسلمانوں نے احتجاج کیا۔Fact : چہلم جلوس کو غلط طریقے سے مسلمانوں کی جانب سے جی 20 اجلاس کے تحت دفعہ 144 کے نفاذ کے خلاف دہلی میں احتجاج کے طور پر پیش کیا گیاحالیہ منعقد ہوئے G20 اجلاس سے قبل، دہلی میں چند افراد کے مارچ کی ویڈیو انٹرنیٹ پر کافی وائرل ہوئی ہے۔ ناقدین نے اس ویڈیوکو شیئر کرتے ہوئے فرقہ وارانہ زاویے سے دعویٰ کیا کہ دہلی میں رہنے والے مسلمانوں نے دفعہ 144 کے نفاذ پر احتجاج کیا، جس کے تحت کسی علاقے میں چار یا اس سے زیادہ لوگوں کے جمع ہونے پر پابندی ہے۔ وائرل ویڈیو میں ہندی زبان میں یہ دعویٰ کچھ اس طرح کیا گیا ہے:कल इन लोगो ने नई दिल्ली डिस्ट्रिक्ट को घंटो जाम रखा था। 20 मिनट का रास्ते को इन लोगो ने घंटा जाम रखा था। मज़हबी नारे लगाते महिलाओं को सड़को पर उतारा गया था। आज हिंदुओ की जन्माष्टमी की शोभा यात्रा तक कैन्सल है तो ये लोग कैसे सड़को पर उतर गये…? जब दिल्ली में धारा 144 लगी है। جب اس دعویٰ کا ترجمہ کیا گیا تو یہ اس طرح ہے: ’’جس بات کا ڈر تھا وہی ہورہا ہے۔ کل ان لوگوں نے نئی دہلی ڈسٹرکٹ کو گھنٹوں جام رکھا تھا۔ بیس منٹ کا راستے کو ان لوگوں نے گھنٹوں جام رکھا تھا۔ مذہبی نعرے لگاتی خواتین کو سڑکوں پر اتارا گیا تھا۔ آج ہندووں کی جنم آشٹمی کی شوبھا یاترا تک منسوخ ہے تو یہ لوگ کیسے سڑکوں پر اتر گئے؟ جب دہلی میں دفعہ 144 نافذ ہے۔‘‘ فیکٹ چیک: دعویٰ غلط ہے۔ اس دعوی کی جانچ پڑتال کے لیے ہم نے کی وورڈس کی تلاش کی تب ہمیں 7 ستمبر کو شیئر کی گئی ایکس (سابقہ ٹویٹر) پر دہلی پولیس کی ایک پوسٹ ملی جس میں واضح کیا گیا تھا کہ جلوس کو G20 سربراہی اجلاس سے پہلے مناسب اجازت کے ساتھ نکالا گیا تھا۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ یہ فرقہ وارانہ احتجاج نہیں تھا بلکہ برادری کا چہلم نامی روایتی جلوس تھا۔ چہلم کا جلوس 6 اور 7 ستمبر کو نکلا تھا۔ جلوس کے پیش نظر قومی راجدھانی میں کچھ سڑکوں اور راستوں کو منظم کیا گیا تھا اور کچھ بس خدمات کو منسوخ کر دیا گیا تھا۔ (یہاں مزید پڑھیں) دہلی پولیس نے اس ضمن میں ٹریفک ایڈوائزری بھی جاری کی تھی۔ اس میں وضاحت کردی گئی تھی کہ یہ ایک مذہبی اور عوامی جلسہ ہے۔ شیعہ مسلم کمیونٹی کا چہلم جلوس جی 20 سربراہی اجلاس سے پہلے دہلی میں نکالا گیا اور دفعہ 144 کے نفاذ کے احتجاج سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ چہلم کے جلوس کی ویڈیو کو جھوٹے فرقہ وارانہ ٹوئسٹ کے ساتھ شیئر کیا جا رہا ہے۔ جلوس کی قیادت دہلی پولیس کی اجازت کے ساتھ مذہبی مشق کے طور پر کی گئی۔ چہلم کے جلوس کی ویڈیو کو جھوٹے فرقہ وارانہ ٹوئسٹ کے ساتھ شیئر کیا جا رہا ہے۔ جلوس کی قیادت دہلی پولیس کی اجازت کے ساتھ مذہبی مشق کے طور پر کی گئی۔ لہٰذا دعویٰ غلط ہے۔
schema:reviewRating
schema:author
schema:datePublished
schema:inLanguage
  • Telugu
schema:itemReviewed
Faceted Search & Find service v1.16.123 as of May 22 2025


Alternative Linked Data Documents: ODE     Content Formats:   [cxml] [csv]     RDF   [text] [turtle] [ld+json] [rdf+json] [rdf+xml]     ODATA   [atom+xml] [odata+json]     Microdata   [microdata+json] [html]    About   
This material is Open Knowledge   W3C Semantic Web Technology [RDF Data]
OpenLink Virtuoso version 07.20.3241 as of May 22 2025, on Linux (x86_64-pc-linux-musl), Single-Server Edition (126 GB total memory, 8 GB memory in use)
Data on this page belongs to its respective rights holders.
Virtuoso Faceted Browser Copyright © 2009-2026 OpenLink Software