About: http://data.cimple.eu/claim-review/81da9f1b48b26ff9a790951e07eb123de4632e06351eb00676a51e97     Goto   Sponge   NotDistinct   Permalink

An Entity of Type : schema:ClaimReview, within Data Space : data.cimple.eu associated with source document(s)

AttributesValues
rdf:type
http://data.cimple...lizedReviewRating
schema:url
schema:text
  • فیکٹ چیک: اورنگ آباد میں قفن پہن کر احتجاج کر رہے لوگوں کی تصویر ہوئی کشمیر کی بتاتے ہوئے وائرل وشواس نیوز نے وائرل تصویر کی پڑتال کی تو ہم نے پایا کہ یہ کشمیر کی نہیں بلکہ 2020 کی اورنگ آباد کی تصویر ہے۔ اور اس میں قفن اوڑے نظر آرہے لوگ سی اے اے /این آر سی کا احتجاج کررہے ہیں۔ یہ تصویر ایک احتجاج کے دوران کی ہے اصل نہیں۔ - By: Umam Noor - Published: Oct 13, 2021 at 03:05 PM نئی دہلی (وشواس نیوز)۔ سوشل میڈیا پر کشمیر سے خبریں اکثر وائرل ہوتی رہتی ہیں۔ اسی ظمن میں ہم نے پایا کہ یہ ایک تصویر متعدد صافین شیئر کر رہے ہیں۔ تصویر میں کچھ قفن اوڑکر لیٹے ہوئے بہت سے لوگوں کو دیکھا جا سکتا ہے۔ اب اسی تصویر کو اصل واقعہ سمجھتے ہوئے شیئر کیا جا رہا ہے اور صارفین دعوی کر رہے ہیں کہ یہ کشمیر کی تصویر ہے۔ جب وشواس نیوز نے وائرل تصویر کی پڑتال کی تو ہم نے پایا کہ یہ کشمیر کی نہیں بلکہ 2020 کی اورنگ آباد کی تصویر ہے۔ اور اس میں قفن اوڑے نظر آرہے لوگ سی اے اے /این آر سی کا احتجاج کررہے ہیں۔ یہ تصویر ایک احتجاج کے دوران کی ہے اصل نہیں۔ کیا ہے وائرل پوسٹ میں؟ فیس بک صارف نے وائرل پوسٹ کو شیئر کرتے ہوئے لکھا، ’دنیا والوں آواز اٹھاؤ۔ کشمیر کے مسلمانوں کی مدد کریں۔ اگر آپ کا ایک مذہب کے نہیں بھی ہیں تو وہ انسانی جانیں ہیں جنہیں خدا نے بھی قتل کرنے کے لئے منع کیا ہے‘۔ #شمير_المحتلة#إنقذوا_كاشمير#مسلمين_كاشمير‘۔ پوسٹ کے آرکائیو ورژن کو یہاں دیکھیں۔ پڑتال اپنی پڑتال کو شروع کرتے ہوئے سب سے پہلے ہم نے گوگل رورس امیج کے ذریعہ وائرل تصویر کو سرچ کیا۔ سرچ میں سب سے پہلے ہمیں یہ تصویر ایک ٹویٹر ہینڈل پر 24 فروری 2020 پر ٹویٹ ہوئی یہ تصویر ملی۔ یہاں تصویر کو اورنگ آباد کی بتاتے ہوئے شیئر کیا گیا ہے۔ سرچ میں ہمیں اسی فوٹو کا زوم ورژن جے جے پی نیوز نام کی ایک نیوز ویب سائٹ پر شائع ہوئی ایک خبر میں ملی۔ 24 فروری 2020 کو یہاں شائع ہوئی خبر کے مطابق، ’اورنگ آباد میں قفن پہن کر لوگ کر رہے ہیں سی اے اے اور این آر سی کی مخالفت‘۔ وشواس نیوز نے وائرل پوسٹ سے جڑی تصدیق کے لئے ہمارے ساتھی دینک جاگرن میں جموں و کشمیر کے بیرورو چیف نیون نواز سے رابطہ کیا اور وائرل پوسٹ ان کے ساتھ شیئر کی۔ انہوں نے ہمیں بتایا کہ یہ تصویر کشمیر کی نہیں ہے یہ بالکل غلط دعوی ہے۔ فرضی پوسٹ کو شیئر کرنے والے فیس بک صارف کی سوشل اسکیننگ میں ہم نے پایا کہ صارف کا تعلق مصر سے ہے۔ اس کے علاوہ صارف کو 603 لوگ فالوو کرتے ہیں۔ نتیجہ: وشواس نیوز نے وائرل تصویر کی پڑتال کی تو ہم نے پایا کہ یہ کشمیر کی نہیں بلکہ 2020 کی اورنگ آباد کی تصویر ہے۔ اور اس میں قفن اوڑے نظر آرہے لوگ سی اے اے /این آر سی کا احتجاج کررہے ہیں۔ یہ تصویر ایک احتجاج کے دوران کی ہے اصل نہیں۔ - Claim Review : کشمیر کی تصویر - Claimed By : Mohamed Ashraf - Fact Check : جھوٹ مکمل حقیقت جانیں... کسی معلومات یا افواہ پر شک ہو تو ہمیں بتائیں سب کو بتائیں، سچ جاننا آپ کا حق ہے۔ اگر آپ کو ایسے کسی بھی میسج یا افواہ پر شبہ ہے جس کا اثر معاشرے، ملک یا آپ پر ہو سکتا ہے تو ہمیں بتائیں۔ آپ نیچے دئے گئے کسی بھی ذرائع ابلاغ کے ذریعہ معلومات بھیج سکتے ہیں۔
schema:mentions
schema:reviewRating
schema:author
schema:datePublished
schema:inLanguage
  • English
schema:itemReviewed
Faceted Search & Find service v1.16.123 as of May 22 2025


Alternative Linked Data Documents: ODE     Content Formats:   [cxml] [csv]     RDF   [text] [turtle] [ld+json] [rdf+json] [rdf+xml]     ODATA   [atom+xml] [odata+json]     Microdata   [microdata+json] [html]    About   
This material is Open Knowledge   W3C Semantic Web Technology [RDF Data]
OpenLink Virtuoso version 07.20.3241 as of May 22 2025, on Linux (x86_64-pc-linux-musl), Single-Server Edition (126 GB total memory, 8 GB memory in use)
Data on this page belongs to its respective rights holders.
Virtuoso Faceted Browser Copyright © 2009-2026 OpenLink Software