About: http://data.cimple.eu/claim-review/c2ad85080611820f5dd2604173726b9f6edc0a5dc12e5f903dc3aeba     Goto   Sponge   NotDistinct   Permalink

An Entity of Type : schema:ClaimReview, within Data Space : data.cimple.eu associated with source document(s)

AttributesValues
rdf:type
http://data.cimple...lizedReviewRating
schema:url
schema:text
  • Authors Claim شام میں جاری حکومت مخالف لڑائی کے دوران جنگجوؤں نے ایک خاتون کو یرغمال بنا لیا ہے۔ Fact ویڈیو پرانی ہے اور ترکی کے حامی عسکریت پسند گروہ کی جانب سے شام میں ایک کرُد خاتون کو جنگی قیدی بنائے جانے کی ہے۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق حیات تحریر الشام کے جنگجوؤں نے بشارا لاسد کی حکومتی افواج کے خلاف حملہ شروع کر دیا ہے۔ اس دوران ترک حامی گروپ(ایچ ٹی ایس) کی قیادت میں شام کے شہر حلب و دیگر علاقوں پر قبضہ کرنے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔ اب اسی تناظر میں ایک ویڈیو شیئر کی جا رہی ہے۔ جس میں فوجی جوان ایک خاتون کو گود میں اٹھاکر لے جاتا ہوا نظر آرہا ہے۔ صارفین کا دعویٰ ہے کہ یہ ویڈیو شام میں جاری حالیہ خانہ جنگی کے دوران حیات تحریر الشام کے ارکان کی جانب سے خاتون کو مال غنیمت کے طور پر اٹھاکر لے جانے کی ہے۔ ویڈیو کے ساتھ صارفین نے کیپشن میں لکھا ہے “حلب(شام) میں خوارجیوں نے خواتین کو پھر سے مالِ غنیمت سمجھ کر اٹھانا شروع کر دیا”۔ آرکائیو لنک یہاں اور یہاں دیکھیں۔ Fact Check/Verification ہم نے ویڈیو کے ایک فریم کو گوگل لینس پر سرچ کیا۔ جہاں ہمیں 25 اکتوبر 2019 کو اپلوڈ شدہ ہوبہو ویڈیو آرک نیوس نامی یوٹیوب چینل پر موصول ہوئی۔ ویڈیو کے ساتھ فراہم کردہ معلومات کے مطابق ایس ڈی ایف کے ایک فوجی خاتون کو ترک حمایت یافتہ مسلح فوج نے اپنے قبضہ میں لیا ہوا ہے(گوگل ترجمہ)۔ مزید سرچ کے دوران ہمیں وائرل ویڈیو سے متعلق العربیہ اور الحرہ نیوز ویب سائٹس پر اکتوبر 2019 کی رپورٹس موصول ہوئیں۔ ان رپورٹس میں بھی واضح کیا گیا ہے کہ ترکی کے حامی عسکریت پسند شام میں کرد خاتون کو حراست میں لئے ہوئے ہیں۔ رپورٹ میں خاتون کا نام سیسیک کوبانی بتایا گیا ہے۔ اس حوالے سے دیگر رپورٹ یہاں اور یہاں پڑھیں۔ اسی سے متعلق ایک رپورٹ ہمیں اے این ایف نیوز نامی ویب سائٹ پر 28 جولائی 2020 کو شائع شدہ ملی۔ اس رپورٹ کے مطابق اس خاتون کا نام سیسیک کوبین ہے۔ یہ ایک جنگی قیدی ہیں اور ان کے مقدمے کی سماعت عرفہ میں جاری ہے۔ اس خاتون کو 2019 کے اکتوبر میں شمالی شام میں عین عیسی سے احرار الشام نے پکڑا تھا۔ Conclusion اس طرح نیوز چیکر کی تحقیقات سے یہ ثابت ہوا کہ شام میں جاری لڑائی کے دوران خاتون کو یرغمال بنائے جانے کا بتاکر شیئر کی گئی یہ ویڈیو 2019 کی ہے اور ترکی کے حامی عسکریت پسند گروہ کی جانب سے شام میں کرد خاتون کو یرغمال بنائے جانے کی ہے۔ Result: False Sources Video published by YouTube Channel on ark nuce on 25 Oct 2019 Reports published by Al Arabiya, Al Hurra and Anfenglish mobile on 2019/2020 نوٹ: کسی بھی مشتبہ خبر کی تحقیق، ترمیم یا دیگر تجاویز کے لئے ہمیں واہٹس ایپ نمبر 9999499044 پر آپ اپنی رائے ارسال کر سکتے ہیں۔ ساتھ ہی ہمارے واہٹس ایپ چینل کو بھی فالو کریں۔
schema:mentions
schema:reviewRating
schema:author
schema:datePublished
schema:inLanguage
  • Hindi
schema:itemReviewed
Faceted Search & Find service v1.16.123 as of May 22 2025


Alternative Linked Data Documents: ODE     Content Formats:   [cxml] [csv]     RDF   [text] [turtle] [ld+json] [rdf+json] [rdf+xml]     ODATA   [atom+xml] [odata+json]     Microdata   [microdata+json] [html]    About   
This material is Open Knowledge   W3C Semantic Web Technology [RDF Data]
OpenLink Virtuoso version 07.20.3241 as of May 22 2025, on Linux (x86_64-pc-linux-musl), Single-Server Edition (126 GB total memory, 8 GB memory in use)
Data on this page belongs to its respective rights holders.
Virtuoso Faceted Browser Copyright © 2009-2026 OpenLink Software