About: http://data.cimple.eu/claim-review/ccb7436a0efad992b425c9b858bb5a9ea6b6ca9f459d5423ba5cdf0d     Goto   Sponge   NotDistinct   Permalink

An Entity of Type : schema:ClaimReview, within Data Space : data.cimple.eu associated with source document(s)

AttributesValues
rdf:type
http://data.cimple...lizedReviewRating
schema:url
schema:text
  • Authors Claim بنگلہ دیش کے کاکس بازار میں 10 مسلمانوں نے 14 سالہ ہندو لڑکی کے ساتھ عصمت دری کی۔ Fact بنگلہ دیش کے کاکس بازار میں خاتون کے ساتھ جنسی استحصال معاملے میں فرقہ وارانہ رنگ نہیں ہے۔ سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہو رہی ہے، جس میں ایک لڑکی روتے ہوئے اپنے ساتھ ہوئے جنسی استحصال کا درد بیان کر رہی ہے۔ ویڈیو کے ساتھ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ بنگلہ دیش میں 10 مسلمانوں نے 14 سالہ ہندو لڑکی کے ساتھ اجتماعی عصمت ریزی کی ہے۔ آرکائیو لنک یہاں اور یہاں دیکھیں۔ Fact Check/Verification ہم نے وائرل ویڈیو کے چند فریموں کو ریورس امیج سرچ کیا۔ اس دوران ہمیں وائرل ویڈیو کا طویل ورژن چینل انانی نامی فیس بک پیج پر موصول ہوا۔ جس کے ساتھ فراہم کردہ معلومات کے مطابق بدرکھلی کے علاقے میں ایک لڑکی کے ساتھ ہوئی اجتماعی عصمت ریزی متاثرہ کا بتایا گیا ہے۔ گوگل پر متعلقہ کیورڈ تلاشنے پر ہمیں بنگلہ دیشی نیوز آؤٹ لیٹ دی بزنس اسٹینڈرڈ اور دی ڈیلی اسٹار کی ویب سائٹ پر7 اور 8 جنوری 2025 کو شائع ہونے والی رپورٹس موصول ہوئیں۔ ان رپورٹس کے مطابق 15 سالہ متاثرہ لڑکی اتوار کی دیر رات کاکس بازار ہسپتال سے علاج کرواکر گھر واپسی کے لئے بدرکھلی اسٹیشن پر ٹرین کا انتظار کررہی تھی۔ تبھی کچھ شرپسندوں نے اسے ہتھیار کی مدد سے اغوا کیا اور پھر 8 لوگوں نے اس کے ساتھ اجتماعی عصمت دری کی۔ پولس نے اس معاملے میں 7 افراد کی شناخت کی تھی اور ان رپورٹ کے شائع ہونے تک 4 ملزموں کو گرفتار کیا تھا۔ تاہم اس رپورٹ میں متاثرہ لڑکی کی شناخت کو واضح نہیں کیا گیا ہے۔ اپنی تحقیقات میں مزید اضافہ کرتے ہوئے ہم نے کاکس بازار کے صحافی ایس ایم حنیف سے رابطہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ یہ واقعہ اتوار 5 جنوری کی رات کو پیش آیا تھا اور اس معاملے میں متاثرہ لڑکی ہندو نہیں بلکہ مسلمان ہے۔ اس کے بعد ہم نے مزید تصدیق کےلئے چکریا تھانے کے انچارج افسر سے بھی رابطہ کیا۔ انہوں نے وائرل ہونے والے دعوے کی بھی تردید کی اور واضح کیا کہ اس واقعے کا شکار ہندو نہیں بلکہ ایک مسلمان لڑکی ہے۔ Conclusion اس طرح تحقیقات میں ملنے والے شواہد سے یہ ثابت ہوا کہ بنگلہ دیش کے چکریا، کاکس بازار میں جس لڑکی کی عصمت دری کی گئی تھی وہ ہندو نہیں بلکہ مسلمان ہے۔ Result: False Our Sources Article Published by The Business standard on 8th January 2025 Article Published by the daily star on 7th January 2025 Telephonic Conversation with Cox Bazar Journalist S M Hanif Telephonic Conversation with Chakaria OC (اس آرٹیکل کو ہندی سے ترجمہ کیا گیا ہے) نوٹ: کسی بھی مشتبہ خبر کی تحقیق، ترمیم یا دیگر تجاویز کے لئے ہمیں واہٹس ایپ نمبر 9999499044 پر آپ اپنی رائے ارسال کر سکتے ہیں۔ ساتھ ہی ہمارے واہٹس ایپ چینل کو بھی فالو کریں۔
schema:mentions
schema:reviewRating
schema:author
schema:datePublished
schema:inLanguage
  • Hindi
schema:itemReviewed
Faceted Search & Find service v1.16.123 as of May 22 2025


Alternative Linked Data Documents: ODE     Content Formats:   [cxml] [csv]     RDF   [text] [turtle] [ld+json] [rdf+json] [rdf+xml]     ODATA   [atom+xml] [odata+json]     Microdata   [microdata+json] [html]    About   
This material is Open Knowledge   W3C Semantic Web Technology [RDF Data]
OpenLink Virtuoso version 07.20.3241 as of May 22 2025, on Linux (x86_64-pc-linux-musl), Single-Server Edition (126 GB total memory, 8 GB memory in use)
Data on this page belongs to its respective rights holders.
Virtuoso Faceted Browser Copyright © 2009-2026 OpenLink Software