About: http://data.cimple.eu/claim-review/d82b73643aef126ae08178bad7ba92fac848a27a5b4718dcc053536a     Goto   Sponge   NotDistinct   Permalink

An Entity of Type : schema:ClaimReview, within Data Space : data.cimple.eu associated with source document(s)

AttributesValues
rdf:type
http://data.cimple...lizedReviewRating
schema:url
schema:text
  • Newchecker.in is an independent fact-checking initiative of NC Media Networks Pvt. Ltd. We welcome our readers to send us claims to fact check. If you believe a story or statement deserves a fact check, or an error has been made with a published fact check Contact Us: checkthis@newschecker.in Fact checks doneFOLLOW US Crime خون میں ڈوبی قلم کی ایک تصویر کو سوشل میڈیا پر شیئر کرکے دعویٰ کیا جارہا ہے کہ یہ قلم حال ہی میں کابل افغانستان میں ہونے والے دھماکے کے دوران خون میں ڈوب گئی۔ ایک ٹویٹر صارف کا دعویٰ ہے کہ یہ خون میں ڈوبی قلم کی تصویر کابل کے ایک تعلیمی ادارے میں ہونے والے حالیہ دھماکے کی ہے۔ اس کے علاوہ متعدد صارفین اس تصویر کو الگ الگ کیپشن اور دیگر تصویروں کے ساتھ بھی شیئر کررہے ہیں۔ نیوز چیکر نے خون میں ڈوبی قلم کی تصویر کو گوگل ریورس امیج سرچ کیا۔ اس دوران کریمہ بلوچ نامی ٹویٹر ہینڈل پر شیئر شدہ 18 اگست 2020 کی ایک پوسٹ ملی۔ جس میں اسی تصویر کے ساتھ دیگر تصاویر بھی تھیں۔ پوسٹ میں دی گئی معلومات کے مطابق یہ تصویر بلوچستان کے رہنے والے حیات نامی ایک طالب علم کی ہے۔ جو پاکستانی فورسز کے ہاتھوں مارا گیا۔ مذکورہ پوسٹ سے پتہ چلا کہ خون میں ڈوبی قلم کی تصویر پرانی ہے۔ پھر ہم نے تصویر کے ساتھ، ‘حیات کا پاکستانی فوج کے ہاتھوں قتل’ کیورڈ سرچ کیا۔ اس دوران ہمیں دی بلوچستان پوسٹ اور ڈیلی سنگر نامی اردو نیوز ویب سائٹ پر اسی تصویر کے ساتھ شائع 18 اگست 2020 کے مضمون ملے۔ جس میں اس تصویر کو کیچ، مکران کے مرکزی شہر تربت سے تعلق رکھنے والے حیات بلوچ کے خون میں ڈوبی قلم کا بتایا گیا ہے۔ اس کے علاوہ ہمیں یہی تصویر نیوز انٹر وینشن نامی ویب سائٹ پر بھی ملی۔ اس میں بھی اس تصویر کو بلوچستان کے رہنے والے حیات بلوچ کے خون میں ڈوبی قلم کا بتایا گیا ہے۔ جو پاکستانی فوج کے ہاتھوں مارا گیا تھا۔ مذکورہ رپورٹس اور ٹویٹ سے واضح ہوا کہ تصویر انٹرنیٹ پر 2020 سے موجود ہے، جبکہ کابل کے تعلیمی ادارے میں دھماکہ 30 ستمبر 2022 کو ہوا تھا۔ جس میں 19 طلبہ کی موت ہوگئی تھی، اور 30 سے زائد زخمی ہوئے۔ اس طرح نیوز چیکر کی تحقیقات سے واضع ہوا کہ خون میں ڈوبی قلم کی اس وائرل تصویر کا تعلق حالیہ کابل دھماکے سے نہیں ہے، بلکہ بلوچستان سے تعلق رکھنے والے حیات نامی ایک طالب علم کی ہے، جو پاکستانی فورسز کے ہاتھوں مارا گیا اور یہ تصویر انٹر نیٹ پر 2020 سے موجود ہے۔ Our Sources Tweet by @KarimaBloch on 18 Aug 2020 Media Repot published by The Balochistan post on 18 Aug 2020 Media Repot published by dailysangar on 18 Aug 2020 Media Repot published by newsintervention.com on 14 Aug 2020 کسی بھی مشکوک خبر کی تحقیقات، تصحیح یا دیگر تجاویز کے لیے ہمیں واٹس ایپ کریں: 9999499044 یا ای میل: checkthis@newschecker.in Mohammed Zakariya October 12, 2022 Mohammed Zakariya October 7, 2022 Mohammed Zakariya August 22, 2022
schema:mentions
schema:reviewRating
schema:author
schema:datePublished
schema:inLanguage
  • Hindi
schema:itemReviewed
Faceted Search & Find service v1.16.123 as of May 22 2025


Alternative Linked Data Documents: ODE     Content Formats:   [cxml] [csv]     RDF   [text] [turtle] [ld+json] [rdf+json] [rdf+xml]     ODATA   [atom+xml] [odata+json]     Microdata   [microdata+json] [html]    About   
This material is Open Knowledge   W3C Semantic Web Technology [RDF Data]
OpenLink Virtuoso version 07.20.3241 as of May 22 2025, on Linux (x86_64-pc-linux-musl), Single-Server Edition (126 GB total memory, 10 GB memory in use)
Data on this page belongs to its respective rights holders.
Virtuoso Faceted Browser Copyright © 2009-2026 OpenLink Software