About: http://data.cimple.eu/claim-review/f41ebffcc9abbdad322ab1c33f26a1393d2eb37b5e37dffb42a4e763     Goto   Sponge   NotDistinct   Permalink

An Entity of Type : schema:ClaimReview, within Data Space : data.cimple.eu associated with source document(s)

AttributesValues
rdf:type
http://data.cimple...lizedReviewRating
schema:url
schema:text
  • فیکٹ چیک: مغربی کنارے کی مسجد الولیدین پر ہوئے حملہ کی نہیں ہے یہ تصویر، 2014 کی فوٹو وائرل وشواس نیوز نے اپنی پڑتال میں پایا کہ وائرل کی جا رہی تصویر سال 2014 کی، مغربی کنارے کی ایک دیگر مجسد میں ہوئے حملہ کی ہے۔ حالاںکہ حالیہ خبروں کے مطابق، مغربی کنارے کی مسجد ’الولیدین’ پر 20دسمبر 2024 کو حملہ ہوا ہے۔ - By: Umam Noor - Published: Dec 27, 2024 at 05:58 PM - Updated: Dec 27, 2024 at 06:05 PM نئی دہلی (وشواس نیوز)۔ اسرائیل- فلسطین تنازع کے درمیان سوشل میڈیا پر ایک تصویر شیئر کی جا رہی ہے۔ وائرل تصویر ایک مسجد کی ہے جس میں حملہ کے بعد کے منظر کو دیکھا جا سکتا ہے۔ وائرل کی جا رہی اس تصویر کو شیئر کرتے ہوئے صارفین دعویٰ کر رہے ہیں کہ یہ تصویر مغربی کنارے کی مسجد ’الولیدین’ میں حالیہ روز ہوئے حملہ کی ہے۔ وشواس نیوز نے اپنی پڑتال میں پایا کہ وائرل کی جا رہی تصویر سال 2014 کی، مغربی کنارے کی ایک دیگر مجسد میں ہوئے حملہ کی ہے۔ حالاںکہ حالیہ خبروں کے مطابق، مغربی کنارے کی مسجد ’الولیدین’ پر 20دسمبر 2024 کو حملہ ہوا ہے۔ کیا ہے وائرل پوسٹ میں؟ فیس بک صارف نے وائرل پوسٹ کو شیئر کرتے ہوئے لکھا، ’’یہودی آباد کاروں کا اسرائیلی فوج کی مدد سے مسجد پر دھاوا؛ آگ لگا دی یہودی آباد کاروں نے مسجد کی دیواروں پر “بدلہ” اور “عربوں کی موت” جیسے نفرت انگیز اور نعرے عبرانی میں لکھے #دسمبر 20, 2024 مغربی کنارے کے ایک گاؤں میں یہودی آباد کاروں نے اسرائیلی فوج کے حصار میں ایک مسجد ’’الولیدین‘‘ پر حملہ کردیا۔ عرب خبر رساں ادارے کے مطابق مغربی کنارے کے علاقے سلفیت میں ایک مسجد کو آگ لگانے کی ناپاک حرکت کی گئی ہے۔ یہودی آباد کاروں نے مسجد کی دیواروں پر “بدلہ” اور “عربوں کی موت” جیسے نفرت انگیز اور نسل پرستانہ نعرے عبرانی میں اسپرے سے لکھے۔ سلفیت کے گورنر نے تصدیق کی کہ یہ مکروہ کام یہودی آباد کاروں نے اسرائیلی فوج کی مدد سے کیا اور ان کے حصار میں ہی واپس چلے گئے۔ گاؤں کے ایک رہائشی نے خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کو بتایا کہ آباد کاروں نے “مسجد کے داخلی دروازے کو آگ لگا دی اور اس کی دیواروں پر عبرانی نعرے لکھے۔ ایک اور رہائشی نے بتایا کہ مقامی افراد نے اپنی مدد آپ کے تحت آگ کو بجھایا تاہم اس کوشش کے دوران مسجد کا ایک حصہ جل گیا۔ رام اللہ میں فلسطین کی وزارت خارجہ نے اس واقعے کی مذمت کرتے ہوئے اسے نسل پرستی کی ایک صریح کارروائی اور اسرائیل کی انتہا پسند دائیں بازو کی حکمران حکومت کی دہشت گردی قرار دیا۔ ادھر اسرائیلی حکومت کا کہنا ہے کہ اس واقعے سے آگاہ ہے اور تحقیقات جاری ہیں۔ یاد رہے کہ غزہ جنگ کے بعد سے مغربی کنارے میں اس سے قبل یہودی آباد کار متعدد فلسطینیوں پر حملے کرکے انھیں قتل اور زخمی بھی کرچکے ہیں۔ جس پر امریکا سمیت عالمی قوتوں نے مغربی کنارے میں فلسطینیوں پر حملوں میں ملوث یہودیوں پر پابندیاں بھی عائد کیں اور اسرائیل کو خبردار بھی کیا تھا۔‘‘۔ پوسٹ کے آرکائیو ورژن کو یہاں دیکھیں۔ پڑتال اپنی پڑتال کو شروع کو شروع کرتے ہوئے سب سے پہلے ہم نے گوگل لینس کے ذریعہ تصویر کو سرچ کیا۔ سرچ کئے جانے پر ہمیں یہ تصویر ایک عربی نیوز ویب سائٹ پر اپلوڈ ہوئی ملی۔ 13 نومبر 2014 کو شائع ہوئی خبر کے ساتھ دی گئی معلومات کے مطابق، انتہا پسندوں نے ویسٹ بینک کی ایک مسجد پر حملہ کیا۔ آباد کاروں نے فجر کے وقت مسجد کو آگ لگا دی اور اس کی دیواروں پر عربوں کے خلاف نسل پرستانہ نعرے اور تحریریں پینٹ کیں۔ اس معاملہ سے متعلق ویڈیو ہمیں آناتولی ایجنسی کے یوٹیوب چینل پر بھی اپلوڈ ہوا ملا۔ یہاں ویڈیو کو 12 نومبر 2014 کو اپلوڈ کیا گیا ہے۔ دی گئی ملعومات کے مطابق، 12 نومبر 2014 کو مقبوضہ مغربی کنارے کے شہر رام اللہ کے شمال میں واقع المغیر گاؤں میں ہونے والے حملے کے بعد فلسطینی ایک تباہ شدہ مسجد کے باہر جمع ہیں۔ رام اللہ کے المغیر گاؤں میں مسجد کی پہلی منزل مکمل طور پر جل گئی اور دوسری منزل برقرار ہے‘‘۔ اے پی کے یوٹیوب چینل پر بھی ہمیں اس معاملہ سے جڑا ویڈیو ملا۔ 12 نومبر 2014 کو اپلوڈ کو اپلوڈ ہوئے ویڈیو کے ساتھ دی گئی معلومات کے مطابق، ’’مغربی کنارے پر موجود مسجد میں حملہ ہوا ہے‘‘۔ وہیں 20 دسمبر 2024 کی ٹی آر ٹی ورلڈ کی خبر کے مطابق، مغربی کنارے کے گاؤں سلفیت میں یہودی آباد کاروں نے اسرائیلی فوج کے حصار میں مسجد ’’الولیدین‘‘ پر حملہ کیا ہے۔ وائرل پوسٹ سے متعلق تصدیق کے لئے ہم نے مشرق وسطی معاملات کے ماہر بابی نقوی سے رابطہ کیا اور وائرل پوسٹ ان کے ساتھ شیئر کی۔ انہوں نے ہمں بتایا کہ، انتہا پسندوں کی جانب سے مسلسل غزہ اور ویسٹ بینک کی مسجدوں پر حملے کئے جاتے رہے ہیں۔ اب تصویر شیئر کرنے والے پیج کو اسکین کرنے کا وقت تھا۔ ہم نے پایا کہ 124لوگ اس پیج کو فالو کرتے ہیں۔ نتیجہ: وشواس نیوز نے اپنی پڑتال میں پایا کہ وائرل کی جا رہی تصویر سال 2014 کی، مغربی کنارے کی ایک دیگر مجسد میں ہوئے حملہ کی ہے۔ حالاںکہ حالیہ خبروں کے مطابق، مغربی کنارے کی مسجد ’الولیدین’ پر 20دسمبر 2024 کو حملہ ہوا ہے۔ - Claim Review : یہ تصویر مغربی کنارے کی مسجد ’الولیدین’ میں حالیہ روز ہوئے حملہ کی ہے۔ - Claimed By : FB- User- Punjabi Monda - Fact Check : گمراہ کن مکمل حقیقت جانیں... کسی معلومات یا افواہ پر شک ہو تو ہمیں بتائیں سب کو بتائیں، سچ جاننا آپ کا حق ہے۔ اگر آپ کو ایسے کسی بھی میسج یا افواہ پر شبہ ہے جس کا اثر معاشرے، ملک یا آپ پر ہو سکتا ہے تو ہمیں بتائیں۔ آپ نیچے دئے گئے کسی بھی ذرائع ابلاغ کے ذریعہ معلومات بھیج سکتے ہیں۔
schema:mentions
schema:reviewRating
schema:author
schema:datePublished
schema:inLanguage
  • English
schema:itemReviewed
Faceted Search & Find service v1.16.123 as of May 22 2025


Alternative Linked Data Documents: ODE     Content Formats:   [cxml] [csv]     RDF   [text] [turtle] [ld+json] [rdf+json] [rdf+xml]     ODATA   [atom+xml] [odata+json]     Microdata   [microdata+json] [html]    About   
This material is Open Knowledge   W3C Semantic Web Technology [RDF Data]
OpenLink Virtuoso version 07.20.3241 as of May 22 2025, on Linux (x86_64-pc-linux-musl), Single-Server Edition (126 GB total memory, 8 GB memory in use)
Data on this page belongs to its respective rights holders.
Virtuoso Faceted Browser Copyright © 2009-2026 OpenLink Software